وہ اک آوارہ و مجنوں
وہ اک شاعر
جسے اپنی شرافت کے تحفظ میں
کیا تھا قتل اک مدت ہوئی میں نے
وہی آوارہ و مجنوں
وہی شاعر
وہ اک آوارہ و مجنوں
وہ اک شاعر
جسے اپنی شرافت کے تحفظ میں
کیا تھا قتل اک مدت ہوئی میں نے
وہی آوارہ و مجنوں
وہی شاعر
موسمِ گل ہے، ہوا عطر فِشاں ہے ساقی
دیکھ گلزار پہ جنت کا گماں ہے ساقی
آج فطرت نے گلستاں میں الٹ دی ہے نقاب
اوج پر قسمتِ صاحب نظراں ہے ساقی
وہ گھٹا جھوم کے اٹھی، وہ جوانی برسی
آج دنیا کی ہر اک چیز جواں ہے ساقی
مجھ پہ تو مہربان ہے پیارے
یہ بھی اک امتحان ہے پیارے
یہ تِرا آستان جلوہ ہے
میرے دل کی بھی شان ہے پیارے
کون کہتا ہے بے وفا تجھ کو
کس کے منہ میں زبان ہے پیارے
رنگینئ ہوس کا وفا نام رکھ دیا
خوددارئ وفا کا جفا نام رکھ دیا
انسان کی جو بات سمجھ میں نہ آ سکی
انسان نے اس کا حق کی رضا نام رکھ دیا
خود غرضیوں کے سائے میں پاتی ہے پرورش
الفت کو جس کا صِدق و صفا نام رکھ دیا
تیرا خلوصِ دل تو محل نظر نہیں
پر کچھ تو ہے جو تیری زباں میں اثر نہیں
اب وہ نہیں ہے جلوۂ شام و سحر کا رنگ
تیرا جمال شاملِ حسن و نظر نہیں
ہے مرکزِ نگاہ ابھی تک وہ آستاں
یہ اور بات ہے کہ مجالِ سفر نہیں
زبان رقص میں ہے اور جھومتا ہوں میں
کہ داستانِ محبت سنا رہا ہوں میں
نہ پوچھ مجھ سے مِری بیخودی کا افسانہ
کسی کی مست نگاہی کا ماجرا ہوں میں
کہاں کا ضبطِ محبت کہاں کی تاثیریں
تسلیاں دلِ مضطر کو دے رہا ہوں میں
اپنے انجام سے ڈرتا ہوں میں
دل دھڑکتا ہے کہ سچا ہوں میں
میرا ساقی ہے بڑا دریا دل
پھر بھی پیاسا ہوں کہ صحرا ہوں میں
اور کس کو ہو مِرے زہر کی تاب
اپنے ہی آپ کو ڈستا ہوں میں