دماغ و دل میں ہلچل ہو رہی ہے
ندی یادوں کی بے کل ہو رہی ہے
تُو اپنے فیس کو ڈھانک کر نکلنا
نگر میں دھوپ پاگل ہو رہی ہے
تمہاری یاد کا ڈاکہ پڑا ہے
ہماری زیست چمبل ہو رہی ہے
دماغ و دل میں ہلچل ہو رہی ہے
ندی یادوں کی بے کل ہو رہی ہے
تُو اپنے فیس کو ڈھانک کر نکلنا
نگر میں دھوپ پاگل ہو رہی ہے
تمہاری یاد کا ڈاکہ پڑا ہے
ہماری زیست چمبل ہو رہی ہے
زمیں پر نیم جاں یاری پڑی ہے
ادھر خنجر، ادھر آری پڑی ہے
میرے ہی سر پہ ہیں الزام سارے
بڑی مہنگی وفاداری پڑی ہے
عجب سا خوف پھیلا ہے وطن میں
ہوا کے ہاتھ چنگاری پڑی ہے
تِری نظر کے اشارہ بدل بھی سکتے ہیں
میرے نصیب کے تارے بدل بھی سکتے ہیں
میں اپنی ناؤ بھنور سے نکال لایا ہوں
مگر یہ ڈر ہے کنارے بدل بھی سکتے ہیں
امیرِ شہر کی تقریر ہونے والی ہے
سحر تلک یہ نظارے بدل بھی سکتے ہیں
اپنے دل میں آگ لگانی پڑتی ہے
ایسے بھی اب رات بتانی پڑتی ہے
اس کی باتیں سن کر ایسے اٹھتا ہوں
جیسے اپنی لاش اٹھانی پڑتی ہے
وہ خوابوں میں ہاتھ چھڑا کر جائے تو
نیندوں میں آواز لگانی پڑتی ہے
دنیا کو حادثوں میں گرفتار دیکھنا
جب دیکھنا ہو دوستو! اخبار دیکھنا
پھر اس کے بعد شوق سے بیعت کرو مگر
پہلے امیرِ شہر کا کردار دیکھنا
اس کی طرف ہے امن کا پرچم لگا ہوا
لیکن مِرا وہ خواب میں تلوار دیکھنا