Showing posts with label اشفاق منصوری. Show all posts
Showing posts with label اشفاق منصوری. Show all posts

Thursday, 17 March 2022

دماغ و دل میں ہلچل ہو رہی ہے

 دماغ و دل میں ہلچل ہو رہی ہے

ندی یادوں کی بے کل ہو رہی ہے

تُو اپنے فیس کو ڈھانک کر نکلنا

نگر میں دھوپ پاگل ہو رہی ہے

تمہاری یاد کا ڈاکہ پڑا ہے

ہماری زیست چمبل ہو رہی ہے

Friday, 21 January 2022

زمیں پر نیم جاں یاری پڑی ہے

 زمیں پر نیم جاں یاری پڑی ہے

ادھر خنجر، ادھر آری پڑی ہے

میرے ہی سر پہ ہیں الزام سارے

بڑی مہنگی وفاداری پڑی ہے

عجب سا خوف پھیلا ہے وطن میں

ہوا کے ہاتھ چنگاری پڑی ہے

Wednesday, 22 December 2021

تری نظر کے اشارہ بدل بھی سکتے ہیں

 تِری نظر کے اشارہ بدل بھی سکتے ہیں

میرے نصیب کے تارے بدل بھی سکتے ہیں

میں اپنی ناؤ بھنور سے نکال لایا ہوں

مگر یہ ڈر ہے کنارے بدل بھی سکتے ہیں

امیرِ شہر کی تقریر ہونے والی ہے

سحر تلک یہ نظارے بدل بھی سکتے ہیں

Tuesday, 21 December 2021

اپنے دل میں آگ لگانی پڑتی ہے

 اپنے دل میں آگ لگانی پڑتی ہے

ایسے بھی اب رات بتانی پڑتی ہے

اس کی باتیں سن کر ایسے اٹھتا ہوں

جیسے اپنی لاش اٹھانی پڑتی ہے

وہ خوابوں میں ہاتھ چھڑا کر جائے تو

نیندوں میں آواز لگانی پڑتی ہے

Friday, 18 June 2021

دنیا کو حادثوں میں گرفتار دیکھنا

 دنیا کو حادثوں میں گرفتار دیکھنا

جب دیکھنا ہو دوستو! اخبار دیکھنا

پھر اس کے بعد شوق سے بیعت کرو مگر

پہلے امیرِ شہر کا کردار دیکھنا

اس کی طرف ہے امن کا پرچم لگا ہوا

لیکن مِرا وہ خواب میں تلوار دیکھنا