ملا جبیں کو جو اس آستاں سے اِذن سجود
زبان عشق پہ جاری ہوئے صلواۃ و درود
وہ اس کے بارگیہ ناز کی درخشانی
ہر ایک ذرے میں تھی برقی طور کی سی نمود
وه گیف بار تھا منظر کہ محو حیرت تھے
یہ مہر و مہ یہ ستارے یہ آسمان کبود
ملا جبیں کو جو اس آستاں سے اِذن سجود
زبان عشق پہ جاری ہوئے صلواۃ و درود
وہ اس کے بارگیہ ناز کی درخشانی
ہر ایک ذرے میں تھی برقی طور کی سی نمود
وه گیف بار تھا منظر کہ محو حیرت تھے
یہ مہر و مہ یہ ستارے یہ آسمان کبود
جو دل گیا مِرے سینے کا اضطراب گیا
بڑا سکون ملا ،۔ خانماں خراب گیا
نہ چل سکی کسی بیکس کی زور والوں سے
تھپیڑے موجوں کے کھاتا ہوا حباب گیا
رہے یہ دیر شہاب اس کے حُسن برہم کا
کہاں وہ لطف جو یہ نشۂ عتاب گیا
تِری تلاش میں پھرتا ہوں کو بہ کو اے دوست
تُو ہی ٹھکانے لگا میری جستجو اے دوست
ہر ایک پھول کا گو رنگ مختلف ہے، مگر
ہر ایک پھول میں پاتا ہوں تیری بولے دوست
پسند تو ہے، مگر یہ مجھے پسند نہیں
کہ ہر زبان پہ ہو تیری گفتگو اے دوست
شامِ الم کو اپنی تُو صُبحِ یقیں بنا
شک دُور کر وثوق کو دل کا مکیں بنا
صبحِ طرب ہے خندۂ رُوئے بہار زیست
شامِ الم سے دل کو نہ اندوہگیں بنا
ہر نیشِ غم کو اپنے لیے نوشِ جاں سمجھ
زہراب بھی ملے تو اسے انگبیں بنا