Showing posts with label راشدہ ماہین. Show all posts
Showing posts with label راشدہ ماہین. Show all posts

Tuesday, 3 May 2022

دھنک مزاج ہیں اور رنگ و بو سے واقف ہیں

 دھنک مزاج ہیں اور رنگ و بو سے واقف ہیں

تمہارے رنگ مِری گفتگو سے واقف ہیں

بٹھا رہے ہیں جو دریائے عشق پر پہرے

وہ میری پیاس مِری جستجو سے واقف ہیں

وہ راستے تِرے قدموں کے ہیں نشاں جن پر

وہ راستے تو مِری ہاؤ ہو سے واقف ہیں

Wednesday, 16 March 2022

دھنک مزاج ہیں اور رنگ و بو سے واقف ہیں

 دھنک مزاج ہیں اور رنگ و بو سے واقف ہیں

تمہارے رنگ مِری گفتگو سے واقف ہیں

بٹھا رہے ہیں جو دریائے عشق پر پہرے

وہ میری پیاس مِری جستجو سے واقف ہیں

وہ راستے تِرے قدموں کے ہیں نشاں جن پر

وہ راستے تو مِری ہاؤ ہو سے واقف ہیں

Monday, 4 October 2021

اس نے ٹھکرا دیا محبت کو

 اس نے ٹھکرا دیا محبت کو

ہم نے دفنا دیا محبت کو

دل تو دل روح بھی ہوئی زخمی

تم نے زخما دیا محبت کو

تیری بے ربط گفتگو نے تو

اور الجھا دیا محبت کو

Monday, 19 April 2021

راشدہ روٹھی ہوئی رت کو منانے کے لیے

 راشدہ رُوٹھی ہوئی رُت کو منانے کے لیے

چاند پھر جھیل میں اُترا ہے نہانے کے لیے

پھر سے برسات کے موسم نے قیامت کر دی

دل ہے بے تاب تِرے قُرب کو پانے کے لیے

روز دریا کے کنارے پہ چلی جاتی ہوں

پانیوں پر میں تِرا نقش بنانے کے لیے

Saturday, 3 April 2021

آنکھ امکان سے بھری ہوئی تھی

 آنکھ امکان سے بھری ہوئی تھی

اور میں خواب میں ڈری ہوئی تھی

زخم گِنتی تھیں اُنگلیاں اپنے

کوشش آئینہ گری ہوئی تھی

ہجر کیا خوب کیفیت لایا

ان دنوں کتنی شاعری ہوئی تھی

Thursday, 1 April 2021

عشق سے مہکے ہوئے گلزار کا

 عشق سے مہکے ہوئے گُلزار کا

دل تمنائی ہوا ہے  پیار کا

‎حسرتوں کی رقص گہ میری گلی

‎اُس کو ہے لیکن گُماں دربار کا

وہ رُکے اور مسکرا کر چل دئیے

‎جب سُنا گِریہ دلِ بیمار کا

Wednesday, 31 March 2021

اک خیال افروز موج آئی تو تھی

 اک خیال افروز موج آئی تو تھی

میں نے اپنی سطر مہکائی تو تھی

تم نہیں تھے یاد تھی ہر سو محیط

میں نہیں تھی میری تنہائی تو تھی

در بدر بے پیرہن تھا خواب عشق

میں نے اس کو آنکھ پہنائی تو تھی

بے قراری رہے تو کیسا ہو

 بے قراری رہے تو کیسا ہو 

تجھ سے یاری رہے تو کیسا ہو 

میری دھڑکن میں تیری آہٹ کا 

رقص جاری رہے تو کیسا ہو 

ایک نشہ تِری رفاقت کا 

مجھ پہ طاری رہے تو کیسا ہو 

Tuesday, 30 March 2021

سر بسر شاخ دل ہری رہے گی

 سر بسر شاخ دل ہری رہے گی

تا ابد آنکھ میں تَری رہے گی

میں نے قصہ ہی پاک کر ڈالا

عشق ہو گا نہ خود سری رہے گی

عکس بنتے رہیں گے پیش نظر

صورتِ آئینہ گری رہے گی

محبت کو عقیدہ عاشقی کو دین کہتا تھا

 محبت کو عقیدہ، عاشقی کو دِین کہتا تھا

کوئی تھا جو مِری ہر بات پر آمین کہتا تھا

وہ ہر ہر سانس میں جپتا تھا میرے نام کی مالا

کبھی مہتاب کہتا تھا، کبھی ماہین کہتا تھا

کبھی آنے نہیں دیتا تھا میری آنکھ میں آنسو

مِرے اشکوں کو اپنے عشق کی توہین کہتا تھا

Tuesday, 22 December 2020

اس نے لکھا مری شہ رگ سے قریں

 احساسِ گماں


اس نے لکھا

مِری شہ رگ سے قریں

قریۂ جاں کی مہارانی

مری محبوب بتا

کتنے سُرخاب کے پر

اور لگاؤ گی تم؟