دھنک مزاج ہیں اور رنگ و بو سے واقف ہیں
تمہارے رنگ مِری گفتگو سے واقف ہیں
بٹھا رہے ہیں جو دریائے عشق پر پہرے
وہ میری پیاس مِری جستجو سے واقف ہیں
وہ راستے تِرے قدموں کے ہیں نشاں جن پر
وہ راستے تو مِری ہاؤ ہو سے واقف ہیں
دھنک مزاج ہیں اور رنگ و بو سے واقف ہیں
تمہارے رنگ مِری گفتگو سے واقف ہیں
بٹھا رہے ہیں جو دریائے عشق پر پہرے
وہ میری پیاس مِری جستجو سے واقف ہیں
وہ راستے تِرے قدموں کے ہیں نشاں جن پر
وہ راستے تو مِری ہاؤ ہو سے واقف ہیں
دھنک مزاج ہیں اور رنگ و بو سے واقف ہیں
تمہارے رنگ مِری گفتگو سے واقف ہیں
بٹھا رہے ہیں جو دریائے عشق پر پہرے
وہ میری پیاس مِری جستجو سے واقف ہیں
وہ راستے تِرے قدموں کے ہیں نشاں جن پر
وہ راستے تو مِری ہاؤ ہو سے واقف ہیں
اس نے ٹھکرا دیا محبت کو
ہم نے دفنا دیا محبت کو
دل تو دل روح بھی ہوئی زخمی
تم نے زخما دیا محبت کو
تیری بے ربط گفتگو نے تو
اور الجھا دیا محبت کو
راشدہ رُوٹھی ہوئی رُت کو منانے کے لیے
چاند پھر جھیل میں اُترا ہے نہانے کے لیے
پھر سے برسات کے موسم نے قیامت کر دی
دل ہے بے تاب تِرے قُرب کو پانے کے لیے
روز دریا کے کنارے پہ چلی جاتی ہوں
پانیوں پر میں تِرا نقش بنانے کے لیے
آنکھ امکان سے بھری ہوئی تھی
اور میں خواب میں ڈری ہوئی تھی
زخم گِنتی تھیں اُنگلیاں اپنے
کوشش آئینہ گری ہوئی تھی
ہجر کیا خوب کیفیت لایا
ان دنوں کتنی شاعری ہوئی تھی
عشق سے مہکے ہوئے گُلزار کا
دل تمنائی ہوا ہے پیار کا
حسرتوں کی رقص گہ میری گلی
اُس کو ہے لیکن گُماں دربار کا
وہ رُکے اور مسکرا کر چل دئیے
جب سُنا گِریہ دلِ بیمار کا
اک خیال افروز موج آئی تو تھی
میں نے اپنی سطر مہکائی تو تھی
تم نہیں تھے یاد تھی ہر سو محیط
میں نہیں تھی میری تنہائی تو تھی
در بدر بے پیرہن تھا خواب عشق
میں نے اس کو آنکھ پہنائی تو تھی
بے قراری رہے تو کیسا ہو
تجھ سے یاری رہے تو کیسا ہو
میری دھڑکن میں تیری آہٹ کا
رقص جاری رہے تو کیسا ہو
ایک نشہ تِری رفاقت کا
مجھ پہ طاری رہے تو کیسا ہو
سر بسر شاخ دل ہری رہے گی
تا ابد آنکھ میں تَری رہے گی
میں نے قصہ ہی پاک کر ڈالا
عشق ہو گا نہ خود سری رہے گی
عکس بنتے رہیں گے پیش نظر
صورتِ آئینہ گری رہے گی
محبت کو عقیدہ، عاشقی کو دِین کہتا تھا
کوئی تھا جو مِری ہر بات پر آمین کہتا تھا
وہ ہر ہر سانس میں جپتا تھا میرے نام کی مالا
کبھی مہتاب کہتا تھا، کبھی ماہین کہتا تھا
کبھی آنے نہیں دیتا تھا میری آنکھ میں آنسو
مِرے اشکوں کو اپنے عشق کی توہین کہتا تھا
احساسِ گماں
اس نے لکھا
مِری شہ رگ سے قریں
قریۂ جاں کی مہارانی
مری محبوب بتا
کتنے سُرخاب کے پر
اور لگاؤ گی تم؟