Monday, 4 October 2021

اس نے ٹھکرا دیا محبت کو

 اس نے ٹھکرا دیا محبت کو

ہم نے دفنا دیا محبت کو

دل تو دل روح بھی ہوئی زخمی

تم نے زخما دیا محبت کو

تیری بے ربط گفتگو نے تو

اور الجھا دیا محبت کو

ہم گلابوں کے خاندان سے ہیں

ہم نے مہکا دیا محبت کو

سیدھے رستے پہ جا رہی تھی مگر

اس نے بھٹکا دیا محبت کو

میری دیوار گر گئی لیکن

میں نے رستا دیا محبت کو

ہم نے ماہین جاں گنوائی ہے

آپ نے کیا دیا محبت کو


راشدہ ماہین ملک

No comments:

Post a Comment