اس نے ٹھکرا دیا محبت کو
ہم نے دفنا دیا محبت کو
دل تو دل روح بھی ہوئی زخمی
تم نے زخما دیا محبت کو
تیری بے ربط گفتگو نے تو
اور الجھا دیا محبت کو
ہم گلابوں کے خاندان سے ہیں
ہم نے مہکا دیا محبت کو
سیدھے رستے پہ جا رہی تھی مگر
اس نے بھٹکا دیا محبت کو
میری دیوار گر گئی لیکن
میں نے رستا دیا محبت کو
ہم نے ماہین جاں گنوائی ہے
آپ نے کیا دیا محبت کو
راشدہ ماہین ملک
No comments:
Post a Comment