Showing posts with label اپسرا گل. Show all posts
Showing posts with label اپسرا گل. Show all posts

Wednesday, 28 September 2022

باعث وصف نظر آگ سی لگ جاتی ہے

 باعثِ وصفِ نظر آگ سی لگ جاتی ہے

عشق کے زیرِ اثر آگ سی لگ جاتی ہے

جن چراغوں کو شبِ وصل بُجھا دیتی ہوں

ان کو با وقتِ سحر آگ سی لگ جاتی ہے

میں وہ سُوکھی ہوئی ٹہنی ہوں جسے پہلو میں

دیکھ کر شاخِ ثمر آگ سی لگ جاتی ہے

Sunday, 25 September 2022

میں تو کہتی ہوں کہ یہ کام ہی بیہودہ ہے

 میں تو کہتی ہوں کہ یہ کام ہی بیہودہ ہے

دامنِ عشق اگر حِرص سے آلودہ ہے

جو بھی آتا ہے یہاں وہ یہیں کھو جاتا ہے

میرا کوچہ بھی مِرے شہر میں برمودہ ہے

کوئی ماضی نہیں میرا، نہ کوئی مستقبل

میں وجودی ہوں مِرا وقت بھی موجودہ ہے

Saturday, 24 September 2022

ردی نہ سمجھ لینا مجھے خواہش رد میں

 ردی نہ سمجھ لینا مجھے خواہشِ رد میں

ہاں مجھ کو اڑا سکتے ہو اسراف کی مد میں

بستر پہ پڑے ملتے ہیں ٹکڑے مِرے تن کے 

ہر رات میں آ جاتی ہوں اک خواب کی زد میں

ہر موڑ پہ کٹتا ہے مِری زیست کا چالان

رہتی ہی نہیں یہ کبھی رفتار کی حد میں

Friday, 24 June 2022

تابکاری کا نگاہوں میں اثر آیا ہے

 تابکاری کا نگاہوں میں اثر آیا ہے

تُو کسی اور کی بانہوں میں نظر آیا ہے

عشق ٹوکے کی طرح کاٹتا جاتا ہے مجھے

اس میں اُنگلی نہیں آئی، مِرا سر آیا ہے

کوئی سائنس، کوئی جادو ہو کہ محفوظ کروں

ایک موسم جو مِرے دل میں اُتر آیا ہے

Thursday, 23 June 2022

میں جس کو بدھو بنا رہی ہوں وہ آدمی تو شریف سا ہے

میں جس کو بدھو بنا رہی ہوں وہ آدمی تو شریف سا ہے

میں آگے آگے ہوں قافیے سی وہ پیچھے پیچھے ردیف سا ہے

بہت سے دکھ ہیں جو زندگی میں شدید مایوس کر رہے ہیں 

تِری محبت میں ہارنے کا ملال بالکل خفیف سا ہے 

کہیں پہ ہیں داغ اور کہیں پر ہیں چھید پڑتی ہوئی شعاع سے

تِری نظر کا اثر مِرے دل پہ ماہیت میں کثیف سا ہے