باعثِ وصفِ نظر آگ سی لگ جاتی ہے
عشق کے زیرِ اثر آگ سی لگ جاتی ہے
جن چراغوں کو شبِ وصل بُجھا دیتی ہوں
ان کو با وقتِ سحر آگ سی لگ جاتی ہے
میں وہ سُوکھی ہوئی ٹہنی ہوں جسے پہلو میں
دیکھ کر شاخِ ثمر آگ سی لگ جاتی ہے
باعثِ وصفِ نظر آگ سی لگ جاتی ہے
عشق کے زیرِ اثر آگ سی لگ جاتی ہے
جن چراغوں کو شبِ وصل بُجھا دیتی ہوں
ان کو با وقتِ سحر آگ سی لگ جاتی ہے
میں وہ سُوکھی ہوئی ٹہنی ہوں جسے پہلو میں
دیکھ کر شاخِ ثمر آگ سی لگ جاتی ہے
میں تو کہتی ہوں کہ یہ کام ہی بیہودہ ہے
دامنِ عشق اگر حِرص سے آلودہ ہے
جو بھی آتا ہے یہاں وہ یہیں کھو جاتا ہے
میرا کوچہ بھی مِرے شہر میں برمودہ ہے
کوئی ماضی نہیں میرا، نہ کوئی مستقبل
میں وجودی ہوں مِرا وقت بھی موجودہ ہے
ردی نہ سمجھ لینا مجھے خواہشِ رد میں
ہاں مجھ کو اڑا سکتے ہو اسراف کی مد میں
بستر پہ پڑے ملتے ہیں ٹکڑے مِرے تن کے
ہر رات میں آ جاتی ہوں اک خواب کی زد میں
ہر موڑ پہ کٹتا ہے مِری زیست کا چالان
رہتی ہی نہیں یہ کبھی رفتار کی حد میں
تابکاری کا نگاہوں میں اثر آیا ہے
تُو کسی اور کی بانہوں میں نظر آیا ہے
عشق ٹوکے کی طرح کاٹتا جاتا ہے مجھے
اس میں اُنگلی نہیں آئی، مِرا سر آیا ہے
کوئی سائنس، کوئی جادو ہو کہ محفوظ کروں
ایک موسم جو مِرے دل میں اُتر آیا ہے
میں جس کو بدھو بنا رہی ہوں وہ آدمی تو شریف سا ہے
میں آگے آگے ہوں قافیے سی وہ پیچھے پیچھے ردیف سا ہے
بہت سے دکھ ہیں جو زندگی میں شدید مایوس کر رہے ہیں
تِری محبت میں ہارنے کا ملال بالکل خفیف سا ہے
کہیں پہ ہیں داغ اور کہیں پر ہیں چھید پڑتی ہوئی شعاع سے
تِری نظر کا اثر مِرے دل پہ ماہیت میں کثیف سا ہے