نگہ نمناک اور میں
یہ ٹوٹے خواب، اور میں
مسلسل گردشوں میں
مِرے دن رات، اور میں
نہیں تھے اس کے قابل
مِری اوقات، اور میں
سو پھر روندے گئے ہیں
مِرے جذبات، اور میں
تمہارے سر کے صدقے
یہ میری ذات، اور میں
سمے کی نوک پر ہیں
مِرے حالات، اور میں
تِری آنکھوں سے اوجھل
مِری حاجات، اور میں
برس کی آخری شب
تمہاری یاد، اور میں
صبا خان
No comments:
Post a Comment