میں کیسے مان لوں کہ عشق بس اک بار ہوتا ہے
تجھے جتنی دفعہ دیکھوں مجھے ہر بار ہوتا ہے
فقط کٹنے کو یوں بھی کٹ رہی ہے زندگی لیکن
وہی ہے زندگی جس پل تِرا دیدار ہوتا ہے
تجھے پانے کی حسرت اور ڈر ناکامیابی کا
انہیں دو تین باتوں سے یہ دل دو چار ہوتا ہے
میں کیسے مان لوں کہ عشق بس اک بار ہوتا ہے
تجھے جتنی دفعہ دیکھوں مجھے ہر بار ہوتا ہے
فقط کٹنے کو یوں بھی کٹ رہی ہے زندگی لیکن
وہی ہے زندگی جس پل تِرا دیدار ہوتا ہے
تجھے پانے کی حسرت اور ڈر ناکامیابی کا
انہیں دو تین باتوں سے یہ دل دو چار ہوتا ہے
نہ مسجد ہے کوئی نہ چرچ ہے نہ کوئی مندر ہے
اگر گھر ہے کہیں اس کا تو تیرے دل کے اندر ہے
زمانے کی نظر کو وہ بھلا آئے نظر کیسے
نہ اس کا رنگ ہے نہ روپ ہے نہ کوئی پیکر ہے
پرندوں میں چہکتا ہے گلوں میں وہ مہکتا ہے
ہے اس کی ہی اداکاری جو یہ قدرت کا منظر ہے
آئے گا کہہ کر گیا تھا پھر مگر آیا نہیں
منتظر میں رہ گیا وہ لوٹ کر آیا نہیں
اک نظر آیا نظر وہ پھر نظر سے چھپ گیا
پھر نظر کو اک نظر بھی وہ نظر آیا نہیں
زندگی کے راستے پر طے کیا لمبا سفر
پر سفر میں زندگی کے ہمسفر آیا نہیں
اس نے بولا یار چھپا کر رکھنا تم
ہم دونوں کا پیار چھپا کر رکھنا تم
جو میری صورت سے ملتے جلتے ہوں
وہ سارے اشعار چھپا کر رکھنا تم
سیدھے ہاں مت کرنا میں مر جاؤں گا
تھوڑا یہ اقرار چھپا کر رکھنا تم