Showing posts with label عبیر ابوذری. Show all posts
Showing posts with label عبیر ابوذری. Show all posts

Sunday, 23 October 2022

کنویں کے باسیو بس آسمان تک دیکھ سکتے ہو

 کنویں کے باسیو بس آسمان تک دیکھ سکتے ہو

سائنس کی روشنی میں لامکاں تک دیکھ سکتے ہو

بتائیں کیا کہاں سے تم کہاں تک دیکھ سکتے ہو؟

جہاں بھی ہو وہیں سے دو جہاں تک دیکھ سکتے ہو

عیاں تک دیکھ سکتے ہو، نہاں تک دیکھ سکتے ہو

چراثیموں کے انجن کا دھواں تک دیکھ سکتے ہو

Tuesday, 21 December 2021

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

 ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

پرے سے پرے سے پراں اور بھی ہیں

ابھی تو تجھے ایک پھینٹی لگی ہے

ابھی تو تِرے امتحاں اور بھی ہیں

وہ اک نار ہی تو جلاتی نہیں ہے

محلے میں چنگاریاں اور بھی ہیں

Monday, 20 December 2021

ہم صورت حالات سے آگے نہ جا سکے

 ہم صورتِ حالات سے آگے نہ جا سکے

گویا کہ اپنی ذات سے آگے نہ جاسکے

مدت ہوئی ہے گولڈن دن کی تلاش میں

تا حال کالی رات سے آگے نہ جا سکے

ہم کو بھی اچھی قسم کے کھانوں کی ریجھ ہے

پر اپنے ساگ پات سے آگے نہ جا سکے

Saturday, 18 December 2021

بہت دبلی بہت پتلی حیاتی ہوتی جاتی ہے

 بہت دبلی بہت پتلی حیاتی ہوتی جاتی ہے

چپاتی رفتہ رفتہ کاغذاتی ہوتی جاتی ہے

ہمارے گال بھی پچکے ہوئے امرود جیسے ہیں

اور ان کی ناک ہے کہ ناشپاتی ہوتی جاتی ہے

ملی ہے حکمرانی دیس کی جب پارساؤں کو

تو اپنی قوم کیوں پھر وارداتی ہوتی جاتی ہے

Friday, 17 December 2021

رویا ہوں تری یاد میں دن رات مسلسل

 رویا ہوں تِری یاد میں، دن رات مسلسل

ایسے کبھی ہوتی نہیں برسات مسلسل

کانٹے کی طرح ہوں میں ‌رقیبوں کی نظر میں

رہتے ہیں میری گھات میں چھ سات مسلسل

چہرے کو نئے ڈھب سے، سجاتے ہیں وہ ہر روز

بنتے ہیں مِری موت کے آلات مسلسل