ہوں پارسا تِرے پہلو میں شب گزار کے بھی
میں بے لباس نہیں پیرہن اتار کے بھی
ہر ایک سر کو بلندی عطا نہیں کرتے
اصول ہوتے ہیں کچھ تو صلیب و دار کے بھی
ہمارے عکس بھی دھندلے ہوئے تو ہم سمجھے
کہ آئینوں سے ہیں رشتے یہاں غبار کے بھی
ہوں پارسا تِرے پہلو میں شب گزار کے بھی
میں بے لباس نہیں پیرہن اتار کے بھی
ہر ایک سر کو بلندی عطا نہیں کرتے
اصول ہوتے ہیں کچھ تو صلیب و دار کے بھی
ہمارے عکس بھی دھندلے ہوئے تو ہم سمجھے
کہ آئینوں سے ہیں رشتے یہاں غبار کے بھی
تجھ کو پانے کے لیے خود سے گزر تک جاؤں
ایسی جینے کی تمنا ہے کہ مر تک جاؤں
اب نہ شیشوں پہ گروں اور نہ شجر تک جاؤں
میں ہوں پتھر تو کسی دستِ ہنر تک جاؤں
اک دھندلکا ہوں ذرا دیر میں چھٹ جاؤں گا
میں کوئی رات نہیں ہوں جو سحر تک جاؤں
اک دریچے کی تمنا مجھے دوبھر ہوئی ہے
وہ گھٹن ہی مِری سانسوں پہ مقرر ہوئی ہے
آج رکھے ہیں قدم اس نے مِری چوکھٹ پر
آج دہلیز مِری چھت کے برابر ہوئی ہے
نیند نے نیند سے چونکا کے اٹھایا مجھ کو
خواب میں خواب کی تعبیر اجاگر ہوئی ہے
اپنے جینے کے ہم اسباب دِکھاتے ہیں تمہیں
دوستو! آؤ کہ کچھ خواب دکھاتے ہیں تمہیں
تم نے غرقاب سفینے تو بہت دیکھے ہیں
سر پٹکتے ہوئے سیلاب دکھاتے ہیں تمہیں
حسن کا شور جو برپا ہے، ذرا تھمنے دو
عشق کا لہجۂ نایاب دکھاتے ہیں تمہیں
بدن قبول ہے عریانیت کا مارا ہوا
مگر لباس نہ پہنیں گے ہم اتارا ہوا
وہ جس کے سرخ اجالے میں ہم منور تھے
وہ دن بھی شب کے تعاقب میں تھا گزارا ہوا
پناہ گاہ شجر فتح کر کے سویا ہے
مسافتوں کی تھکن سے یہ جسم ہارا ہوا
اتنی قربت بھی نہیں ٹھیک ہے اب یار کے ساتھ
زخم کھا جاؤ گے کھیلو گے جو تلوار کے ساتھ
ایک آہٹ بھی مرے گھر سے ابھرتی ہے اگر
لوگ کان اپنے لگا لیتے ہیں دیوار کے ساتھ
🌍پاؤں ساکت ہیں مگر گھوم رہی ہے دنیا
زندگی ٹھہری ہوئی لگتی ہے رفتار کے ساتھ