Showing posts with label سلیم صدیقی. Show all posts
Showing posts with label سلیم صدیقی. Show all posts

Sunday, 10 January 2021

ہوں پارسا ترے پہلو میں شب گزار کے بھی

 ہوں پارسا تِرے پہلو میں شب گزار کے بھی

میں بے لباس نہیں پیرہن اتار کے بھی

ہر ایک سر کو بلندی عطا نہیں کرتے

اصول ہوتے ہیں کچھ تو صلیب و دار کے بھی

ہمارے عکس بھی دھندلے ہوئے تو ہم سمجھے

کہ آئینوں سے ہیں رشتے یہاں غبار کے بھی

Saturday, 9 January 2021

تجھ کو پانے کے لئے خود سے گزر تک جاؤں

 تجھ کو پانے کے لیے خود سے گزر تک جاؤں

ایسی جینے کی تمنا ہے کہ مر تک جاؤں

اب نہ شیشوں پہ گروں اور نہ شجر تک جاؤں

میں ہوں پتھر تو کسی دستِ ہنر تک جاؤں

اک دھندلکا ہوں ذرا دیر میں چھٹ جاؤں گا

میں کوئی رات نہیں ہوں جو سحر تک جاؤں

Wednesday, 6 January 2021

اک دریچے کی تمنا مجھے دوبھر ہوئی ہے

 اک دریچے کی تمنا مجھے دوبھر ہوئی ہے

وہ گھٹن ہی مِری سانسوں پہ مقرر ہوئی ہے

آج رکھے ہیں قدم اس نے مِری چوکھٹ پر

آج دہلیز مِری چھت کے برابر ہوئی ہے

نیند نے نیند سے چونکا کے اٹھایا مجھ کو

خواب میں خواب کی تعبیر اجاگر ہوئی ہے

Sunday, 3 January 2021

اپنے جینے کے ہم اسباب دکھاتے ہیں تمہیں

 اپنے جینے کے ہم اسباب دِکھاتے ہیں تمہیں

دوستو! آؤ کہ کچھ خواب دکھاتے ہیں تمہیں

تم نے غرقاب سفینے تو بہت دیکھے ہیں

سر پٹکتے ہوئے سیلاب دکھاتے ہیں تمہیں

حسن کا شور جو برپا ہے، ذرا تھمنے دو

عشق کا لہجۂ نایاب دکھاتے ہیں تمہیں

Saturday, 2 January 2021

مسافتوں کی تھکن سے یہ جسم ہارا ہوا

 بدن قبول ہے عریانیت کا مارا ہوا

مگر لباس نہ پہنیں گے ہم اتارا ہوا

وہ جس کے سرخ اجالے میں ہم منور تھے

وہ دن بھی شب کے تعاقب میں تھا گزارا ہوا

پناہ گاہ شجر فتح کر کے سویا ہے

مسافتوں کی تھکن سے یہ جسم ہارا ہوا

Wednesday, 16 December 2020

اتنی قربت بھی نہیں ٹھیک ہے اب یار کے ساتھ

 اتنی قربت بھی نہیں ٹھیک ہے اب یار کے ساتھ

زخم کھا جاؤ گے کھیلو گے جو تلوار کے ساتھ

ایک آہٹ بھی مرے گھر سے ابھرتی ہے اگر

لوگ کان اپنے لگا لیتے ہیں دیوار کے ساتھ

🌍پاؤں ساکت ہیں مگر گھوم رہی ہے دنیا

زندگی ٹھہری ہوئی لگتی ہے رفتار کے ساتھ