کرب در پردۂ طرب ہے ابھی
مسکراہٹ بھی زیر لب ہے ابھی
ہیں پریشاں حیات کے گیسو
نہ کرو ذکر صبح شب ہے ابھی
مل تو سکتا ہے آدمی میں خدا
آدمی آدمی ہی کب ہے ابھی
کرب در پردۂ طرب ہے ابھی
مسکراہٹ بھی زیر لب ہے ابھی
ہیں پریشاں حیات کے گیسو
نہ کرو ذکر صبح شب ہے ابھی
مل تو سکتا ہے آدمی میں خدا
آدمی آدمی ہی کب ہے ابھی
لٹ جائے چمن گل کا تبسم نہیں بکتا
سو دام ہوں بلبل کا ترنم نہیں بکتا
بک جاتا ہے زردار کی الفت کا تیقن
نادار کی چاہت کا توہم نہیں بکتا
بڑھتی ہے بڑھے گرمئ بازار ہوس کی
لب بکتے ہیں اے دوست تبسم نہیں بکتا
کوئی منجدھار نہ دھارا ہے خدا خیر کرے
آج کیوں پاس کنارا ہے خدا خیر کرے
پھر نشیمن کو سنوارا ہے خدا خیر کرے
برق کی آنکھ کا تارا ہے خدا خیر کرے
دیکھیں لوٹ آتی ہے آواز کہ ملتا ہے جواب
دل نے پھر تجھ کو پکارا ہے خدا خیر کرے
خاکساروں کے فن کرارے ہیں
خاک اوڑھے ہوئے شرارے ہیں
آدمی یہ بھی وہ بھی سارے ہیں
نت نئے رنگ روپ دھارے ہیں
کیوں نہ خودبیں ہوں ماہ پارے ہیں
پیار کرتے نہیں جو پیارے ہیں