Showing posts with label عامر موسوی. Show all posts
Showing posts with label عامر موسوی. Show all posts

Wednesday, 15 April 2026

کرب در پردۂ طرب ہے ابھی

 کرب در پردۂ طرب ہے ابھی

مسکراہٹ بھی زیر لب ہے ابھی

ہیں پریشاں حیات کے گیسو

نہ کرو ذکر صبح شب ہے ابھی

مل تو سکتا ہے آدمی میں خدا

آدمی آدمی ہی کب ہے ابھی

Monday, 24 February 2025

لٹ جائے چمن گل کا تبسم نہیں بکتا

 لٹ جائے چمن گل کا تبسم نہیں بکتا

سو دام ہوں بلبل کا ترنم نہیں بکتا

بک جاتا ہے زردار کی الفت کا تیقن

نادار کی چاہت کا توہم نہیں بکتا

بڑھتی ہے بڑھے گرمئ بازار ہوس کی

لب بکتے ہیں اے دوست تبسم نہیں بکتا

Wednesday, 25 December 2024

کوئی منجدھار نہ دھارا ہے خدا خیر کرے

 کوئی منجدھار نہ دھارا ہے خدا خیر کرے

آج کیوں پاس کنارا ہے خدا خیر کرے

پھر نشیمن کو سنوارا ہے خدا خیر کرے

برق کی آنکھ کا تارا ہے خدا خیر کرے

دیکھیں لوٹ آتی ہے آواز کہ ملتا ہے جواب

دل نے پھر تجھ کو پکارا ہے خدا خیر کرے

Saturday, 21 December 2024

آدمی یہ بھی وہ بھی سارے ہیں

 خاکساروں کے فن کرارے ہیں

خاک اوڑھے ہوئے شرارے ہیں

آدمی یہ بھی وہ بھی سارے ہیں

نت نئے رنگ روپ دھارے ہیں

کیوں نہ خودبیں ہوں ماہ پارے ہیں

پیار کرتے نہیں جو پیارے ہیں