Showing posts with label انجم جعفری. Show all posts
Showing posts with label انجم جعفری. Show all posts

Monday, 19 September 2022

اشک آنکھوں سے دم ضبط رواں ہوتا ہے

 اشک آنکھوں سے دمِ ضبط رواں ہوتا ہے

جب کوئی درد حقیقت کی زباں ہوتا ہے

خون رِستا ہے تو آتی ہے گُلِ سُرخ کی یاد

زخم دیکھیں تو بہاروں کا گُماں ہوتا ہے

عشق احساسِ کم و بیش کا پابند نہیں

جب ہوس ہو تو غمِ سُود و زیاں ہوتا ہے

Wednesday, 7 September 2022

زندگی چھوڑ گئی بے سر و سامان مجھے

 زندگی چھوڑ گئی بے سر و سامان مجھے

عمر بھر یاد رہا آپ کا احسان مجھے

بے حکایت مِرے احساس کی تصویر مگر

ہر زمانے کا بنائے کوئی عنوان مجھے

قطع کر دے جو زمانے سے تعلق میرا

بخش دے اس غم ہستی کا تو عرفان مجھے

Saturday, 27 August 2022

چند تنکے تھے جو انجم آشیانے کے لیے

 چند تنکے تھے جو انجم آشیانے کے لیے

برق ان کو بھی چلی آئی جلانے کے لیے

آرزوئیں، حسرتیں، وعدہ و پیمان وفا

سرخیاں کتنی ملی ہیں اک فسانے کے لیے

عمر بھر روتے رہے اشکوں سے دامن تر رہا

عمر بھر ترسا کیے ہم مسکرانے کے لیے

Friday, 26 August 2022

پڑ گیا ہوں آ کے میں بیمار عیسیٰ خیل میں

یہ غزل پڑھ کر کچھ کچھ سمجھ آیا کہ عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کے دردیلے گیتوں کی کیا وجہ ہو سکتی ہے 


پڑ گیا ہوں آ کے میں بیمار عیسیٰ خیل میں

خوش ہے مجھ کو بھیج کر سرکار عیسیٰ خیل میں

ذرے ذرے سے ٹپکتی ہے یہاں بے گانگی

اجنبی سے ہیں در و دیوار عیسیٰ خیل میں

میٹھے پانی کو ترستے ہیں یہاں کے مرد و زن

زندگی ہے وادئ پُر خار عیسیٰ خیل میں

Sunday, 3 April 2022

اپنے جذبوں کی تھکن یوں بھی اتاری ہم نے

 اپنے جذبوں کی تھکن یوں بھی اتاری ہم نے

زندگی دشت نوردی میں گزاری ہم نے

کم نہ کی شہر پہ سورج نے تمازت اپنی

سردیاں خود ہی فضاؤں پہ کیں طاری ہم نے

زخم جس ہاتھ پہ تھا کاٹ دیا ہے اس کو

بس دکھائی ہے یہی کارگزاری ہم نے