اشک آنکھوں سے دمِ ضبط رواں ہوتا ہے
جب کوئی درد حقیقت کی زباں ہوتا ہے
خون رِستا ہے تو آتی ہے گُلِ سُرخ کی یاد
زخم دیکھیں تو بہاروں کا گُماں ہوتا ہے
عشق احساسِ کم و بیش کا پابند نہیں
جب ہوس ہو تو غمِ سُود و زیاں ہوتا ہے
اشک آنکھوں سے دمِ ضبط رواں ہوتا ہے
جب کوئی درد حقیقت کی زباں ہوتا ہے
خون رِستا ہے تو آتی ہے گُلِ سُرخ کی یاد
زخم دیکھیں تو بہاروں کا گُماں ہوتا ہے
عشق احساسِ کم و بیش کا پابند نہیں
جب ہوس ہو تو غمِ سُود و زیاں ہوتا ہے
زندگی چھوڑ گئی بے سر و سامان مجھے
عمر بھر یاد رہا آپ کا احسان مجھے
بے حکایت مِرے احساس کی تصویر مگر
ہر زمانے کا بنائے کوئی عنوان مجھے
قطع کر دے جو زمانے سے تعلق میرا
بخش دے اس غم ہستی کا تو عرفان مجھے
چند تنکے تھے جو انجم آشیانے کے لیے
برق ان کو بھی چلی آئی جلانے کے لیے
آرزوئیں، حسرتیں، وعدہ و پیمان وفا
سرخیاں کتنی ملی ہیں اک فسانے کے لیے
عمر بھر روتے رہے اشکوں سے دامن تر رہا
عمر بھر ترسا کیے ہم مسکرانے کے لیے
یہ غزل پڑھ کر کچھ کچھ سمجھ آیا کہ عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کے دردیلے گیتوں کی کیا وجہ ہو سکتی ہے
پڑ گیا ہوں آ کے میں بیمار عیسیٰ خیل میں
خوش ہے مجھ کو بھیج کر سرکار عیسیٰ خیل میں
ذرے ذرے سے ٹپکتی ہے یہاں بے گانگی
اجنبی سے ہیں در و دیوار عیسیٰ خیل میں
میٹھے پانی کو ترستے ہیں یہاں کے مرد و زن
زندگی ہے وادئ پُر خار عیسیٰ خیل میں
اپنے جذبوں کی تھکن یوں بھی اتاری ہم نے
زندگی دشت نوردی میں گزاری ہم نے
کم نہ کی شہر پہ سورج نے تمازت اپنی
سردیاں خود ہی فضاؤں پہ کیں طاری ہم نے
زخم جس ہاتھ پہ تھا کاٹ دیا ہے اس کو
بس دکھائی ہے یہی کارگزاری ہم نے