سبب کچھ بیخودی کا آج ہو سب پر عیاں اپنا
سُنایا ہے محبت نے ہمیں دردِ نہاں اپنا
عبث ہیں سرحدوں کے تخت کے تاجوں کے یہ جھگڑے
زمیں اپنی نہیں ہے، نا رہا یہ آسماں اپنا
مکدّر ہے فضا تیرے جہاں کی محترم انساں
بسایا ہے کتابوں میں حسیں دلکش جہاں اپنا
سبب کچھ بیخودی کا آج ہو سب پر عیاں اپنا
سُنایا ہے محبت نے ہمیں دردِ نہاں اپنا
عبث ہیں سرحدوں کے تخت کے تاجوں کے یہ جھگڑے
زمیں اپنی نہیں ہے، نا رہا یہ آسماں اپنا
مکدّر ہے فضا تیرے جہاں کی محترم انساں
بسایا ہے کتابوں میں حسیں دلکش جہاں اپنا
فلک نے سیکھا ہے حالات کو زبوں کرنا
ہر ایک گھر کو کسی طرح بے ستوں کرنا
سمٹ کے آئے نہ آشفتگی زمانے کی
دل و نگاہ میں اشکوں سے کچھ سکوں کرنا
حنائی دست کو لہرا کے خوش فضاؤں میں
خوشی سے لوٹ کے آنے کا اک شگوں کرنا