Showing posts with label صغریٰ عالم. Show all posts
Showing posts with label صغریٰ عالم. Show all posts

Thursday, 31 December 2020

سبب کچھ بیخودی کا آج ہو سب پر عیاں اپنا

سبب کچھ بیخودی کا آج ہو سب پر عیاں اپنا

سُنایا ہے محبت نے ہمیں دردِ نہاں اپنا

عبث ہیں سرحدوں کے تخت کے تاجوں کے یہ جھگڑے

زمیں اپنی نہیں ہے، نا رہا یہ آسماں اپنا

مکدّر ہے فضا تیرے جہاں کی محترم انساں

بسایا ہے کتابوں میں حسیں دلکش جہاں اپنا

Wednesday, 28 October 2020

فلک نے سیکھا ہے حالات کو زبوں کرنا

فلک نے سیکھا ہے حالات کو زبوں کرنا

ہر ایک گھر کو کسی طرح بے ستوں کرنا

سمٹ کے آئے نہ آشفتگی زمانے کی

دل و نگاہ میں اشکوں سے کچھ سکوں کرنا

حنائی دست کو لہرا کے خوش فضاؤں میں

خوشی سے لوٹ کے آنے کا اک شگوں کرنا