اک اشک بہا ہو گا
اک شعر ہوا ہو گا
چپ چاپ پڑے ہیں ہم
دل راکھ ہوا ہو گا
اک خواب سہارا تھا
وہ ٹوٹ گیا ہو گا
اک اشک بہا ہو گا
اک شعر ہوا ہو گا
چپ چاپ پڑے ہیں ہم
دل راکھ ہوا ہو گا
اک خواب سہارا تھا
وہ ٹوٹ گیا ہو گا
دعا کے پھول کھلاتے، ذرا نکھر جاتے
قبولیت کی گھڑی آتی، اور مر جاتے
فنا کے خواب کئی دن سے آ رہے ہیں مجھے
میں دیکھتا ہوں پرندوں کو جھیل پر جاتے
قبولیت سے ہمیں کیا بھلا شکایت ہو
دعا ہی اونگھنے لگتی ہے عرش پر جاتے
اے میاں کون یہ کہتا ہے محبت کی ہے
بات یہ ہے کہ یہاں بات ضرورت کی ہے
پھر کوئی چاک گریبان لیے پھرتا ہے
حضرت عشق نے پھر کوئی شرارت کی ہے
بس یونہی ایک ہیولیٰ سا نظر آیا تھا
اور پھر دل نے دھڑکنے کی جو شدت کی ہے
یہ عکس آپ ہی بنتے ہیں ہم سے ملتے ہیں
کہ ناخنوں کے بغیر اپنے زخم چھلتے ہیں
خبر ملی ہے کہ تو خواب دیکھتی ہے ابھی
خبر ملی ہے تری سمت پھول کھلتے ہیں
ہمیں یہ وقت کی بخیہ گری پسند نہیں
اگرچہ وقت کے ہاتھوں سے زخم سلتے ہیں
اس سے دل کے موسم کا اندازہ ہوتا ہے
چہرہ جسم کی بستی کا دروازہ ہوتا ہے
اوس پڑوس کے ستره باغ گواہی دیتے ہیں
پھول تمہارے چھونے سے ہی تازه ہوتا ہے
چیزیں اپنی ضد سے ہی پہچانی جاتی ہیں
شور یقیناً چپ کا ہی آوازہ ہوتا ہے
یہ جو ماتھوں پہ ہیں شکن والے
پہلے یہ بھی تھے حسنِ ظن والے
شب بہشتوں میں مچ گیا کہرام
چھڑ گئے تذکرے وطن والے
دنیا دنیا پکارنے لگے تھے
مل کے سارے ہی دِین و دھن والے
میں تِری مانتا لیکن جو مِرا دل ہے نا
در کا پتھر ہے ہٹانا اسے مشکل ہے نا
یہ تِرا حسن کچھ ایسا نہیں پُوجیں جس کو
لیکن اے یار تِرے گال کا جو تِل ہے نا
جو مِرے واسطے دن رات دعا کرتے ہیں
دشمن جاں یہ بتا ان میں تو شامل ہے نا