Showing posts with label احمد عطا. Show all posts
Showing posts with label احمد عطا. Show all posts

Monday, 4 April 2022

اک اشک بہا ہو گا اک شعر ہوا ہو گا

 اک اشک بہا ہو گا

اک شعر ہوا ہو گا

چپ چاپ پڑے ہیں ہم

دل راکھ ہوا ہو گا

اک خواب سہارا تھا

وہ ٹوٹ گیا ہو گا

Saturday, 8 January 2022

دعا کے پھول کھلاتے ذرا نکھر جاتے

 دعا کے پھول کھلاتے، ذرا نکھر جاتے

قبولیت کی گھڑی آتی، اور مر جاتے

فنا کے خواب کئی دن سے آ رہے ہیں مجھے

میں دیکھتا ہوں پرندوں کو جھیل پر جاتے

قبولیت سے ہمیں کیا بھلا شکایت ہو

دعا ہی اونگھنے لگتی ہے عرش پر جاتے

Monday, 12 July 2021

اے میاں کون یہ کہتا ہے محبت کی ہے

 اے میاں کون یہ کہتا ہے محبت کی ہے

بات یہ ہے کہ یہاں بات ضرورت کی ہے

پھر کوئی چاک گریبان لیے پھرتا ہے

حضرت عشق نے پھر کوئی شرارت کی ہے

بس یونہی ایک ہیولیٰ سا نظر آیا تھا

اور پھر دل نے دھڑکنے کی جو شدت کی ہے

Thursday, 22 April 2021

یہ عکس آپ ہی بنتے ہیں ہم سے ملتے ہیں

 یہ عکس آپ ہی بنتے ہیں ہم سے ملتے ہیں

کہ ناخنوں کے بغیر اپنے زخم چھلتے ہیں

خبر ملی ہے کہ تو خواب دیکھتی ہے ابھی

خبر ملی ہے تری سمت پھول کھلتے ہیں

ہمیں یہ وقت کی بخیہ گری پسند نہیں

اگرچہ وقت کے ہاتھوں سے زخم سلتے ہیں

Monday, 12 April 2021

اس سے دل کے موسم کا اندازہ ہوتا ہے

 اس سے دل کے موسم کا اندازہ ہوتا ہے

چہرہ جسم کی بستی کا دروازہ ہوتا ہے

اوس پڑوس کے ستره باغ گواہی دیتے ہیں

پھول تمہارے چھونے سے ہی تازه ہوتا ہے

چیزیں اپنی ضد سے ہی پہچانی جاتی ہیں

شور یقیناً چپ کا ہی آوازہ ہوتا ہے

Thursday, 11 March 2021

یہ جو ماتھوں پہ ہیں شکن والے

 یہ جو ماتھوں پہ ہیں شکن والے

پہلے یہ بھی تھے حسنِ ظن والے

شب بہشتوں میں مچ گیا کہرام

چھڑ گئے تذکرے وطن والے

دنیا دنیا پکارنے لگے تھے

مل کے سارے ہی دِین و دھن والے

Monday, 5 October 2020

میں تری مانتا لیکن جو مرا دل ہے نا

 میں تِری مانتا لیکن جو مِرا دل ہے نا

در کا پتھر ہے ہٹانا اسے مشکل ہے نا

یہ تِرا حسن کچھ ایسا نہیں پُوجیں جس کو

لیکن اے یار تِرے گال کا جو تِل ہے نا

جو مِرے واسطے دن رات دعا کرتے ہیں

دشمن جاں یہ بتا ان میں تو شامل ہے نا

Tuesday, 18 August 2020

پہلے ہم اشک تھے پھر دیدۂ نمناک ہوئے

پہلے ہم اشک تھے پھر دیدۂ نمناک ہوئے
اک جوئے آب رواں ہاتھ لگی، پاک ہوئے
اور پھر سادہ دلی دل میں کہیں دفن ہوئی
اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے چالاک ہوئے
اور پھر شام ہوئی، رنگ اڑے جام بنے
اور پھر ذکر چھڑا، تھوڑے سے غمناک ہوئے

ہماری آنکھیں بھی صاحب عجیب کتنی ہیں

ہماری آنکھیں بھی صاحب عجیب کتنی ہیں
کہ دل جو روئے تو کم بخت ہنسنے لگتی ہیں
تمہارے شہر سے چلیے کہ تنگ دستی نے
تمہارے شہر کی گلیاں بھی تنگ کر دی ہیں
یہ ہم ہیں بے ہنراں، دیکھیے ہنر مندی
جو کوئی کام کریں ہم تو پوریں جلتی ہیں

Monday, 3 August 2020

دل کوئی پھول نہیں اور ستارہ بھی نہیں

دل کوئی پھول نہیں اور ستارا بھی نہیں
کارِ دنیا کا نہیں، اور تمہارا بھی نہیں
ہم کسی سمت چلیں، راہ لگیں کھو جائیں
راہِ گم گشتہ ہیں، سو ایسا اشارا بھی نہیں
ہم کو تو وصل کے قابل نہیں جانا تم نے
ہم چلے جائیں کہیں تم کو گوارا بھی نہیں

Tuesday, 14 July 2020

گلی کا عام سا چہرہ بھی پیارا ہونے لگتا ہے

گلی کا "عام" سا "چہرہ" بھی پیارا ہونے لگتا ہے
محبت میں تو "ذرہ" بھی "ستارا" ہونے لگتا ہے
یہاں گم سم سے لوگوں پر کبھی پلکیں نہیں اٹھیں
اشارا" کرنے والوں کو "اشارا" ہونے لگتا ہے"
ہماری "زندگی" پر ہے ہمارے "عشق" کا سایہ
کہ ہم جو "کام" کرتے ہیں "خسارا" ہونے لگتا ہے

کہ حسن عشق پہ قربان کر دیا جائے

پیادے بھیج کے "اعلان" کر دیا جائے
کہ حسن عشق پہ "قربان" کر دیا جائے
جو شہر والے ہیں مصروف دنیاداری میں
تو چاند گاؤں کا "مہمان" کر دیا جائے
میں جا رہا ہوں پرندے بھی ساتھ لے جاؤں
تمہارے "شہر" کو "ویران" کر دیا جائے