Showing posts with label اسما ہادیہ. Show all posts
Showing posts with label اسما ہادیہ. Show all posts

Tuesday, 25 April 2023

چوکھٹ پہ تیری لطف صدا کا خرید کر

 چوکھٹ پہ تیری لطف صدا کا خرید کر

صدیاں خرید لی ہیں یہ لمحہ خرید کر

اس بے وفا سے پیار کی قیمت نہ لگ سکی

لائے گا میرے واسطے دنیا خرید کر

شہرِ ہنر سے خود ہی بڑی شدتوں سے ہم

لے آئے آنسوؤں کا یہ دریا خرید کر

Wednesday, 3 November 2021

مری آرزو کے ٹکڑے ہوا خوش ہزار کر کے

 مری آرزو کے ٹکڑے، ہُوا خوش ہزار کر کے

ملا کیا اسے بتاؤ،۔ دلِ تار تار کر کے

نہ ہی چین دل نے پایا نہ وصال رُت کی سُوجھی

یہ کہ عمر کٹ گئی ہے، تِرا انتظار کر کے

بڑے اطمینان سے تھی، تہِ امتحاں بھی دنیا

غمِ دل کو لوٹنے پر، مجھے سوگوار کر کے

Sunday, 17 October 2021

ایک پل کے لیے تھے وہ آئے نظر

 ایک پل کے لیے تھے وہ آئے نظر

عمر بھر دل پکارا کہ ہائے نظر

پھول بن کر ہمیشہ ہی کھلتی رہے

چاند بن کر کبھی جگمگائے نظر

وقت رخصت تِری چشم نم کیا کہوں

کاش منظر مِری بھول جائے نظر

Saturday, 16 October 2021

دیتے ہیں دعا درد کے مارے اسے کہنا

 دیتے ہیں دعا درد کے مارے اسے کہنا

پلکوں سے ذرا بوجھ اتارے اسے کہنا 

اب کوئی بھی رت بھاتی نہیں دیدۂ دل کو 

لگتے ہیں سبھی زہر نظارے اسے کہنا 

ہوتی ہی نہیں ہم سے محبت کی تجارت 

اس دور میں ہیں صرف خسارے اسے کہنا

Friday, 15 October 2021

کچھ خوف وادیوں کے کنارے ملے مجھے

کچھ خوف وادیوں کے کنارے ملے مجھے

کتنے دنوں کے بعد سہارے ملے مجھے

اک عمر خوابِ عشق سے آنکھیں بھری رہیں

تب جا کے عرشِ دل کے ستارے ملے مجھے

رستے میں جو بھی چھوڑ گئے کیا کہوں انہیں

کتنے عجیب تر تھے جو پیارے ملے مجھے

Monday, 11 October 2021

اک ادھورا خواب ہے جو تعبیر کے چکر کاٹ رہا ہے

 اک ادھورا خواب ہے جو تعبیر کے چکر کاٹ رہا ہے

جیسے نِسبت والا کوئی، پِیر کے چکر کاٹ رہا ہے

کیسی یہ اک وحشت سی ہے ایک اسیر جو مدت سے

آزادی کو پا کر بھی زنجیر کے چکر کاٹ رہا ہے

کس کا نام دھیان میں آیا تعظیماً یہ جس کے لیے

عشق یہ میرا ان لکھی تحریر کے چکر کاٹ رہا ہے

Sunday, 10 October 2021

آنکھیں ہیں اشک دل ہے دھواں گھر اداس ہے

 آنکھیں ہیں اشک دل ہے دھواں گھر اداس ہے

تجھ بِن اے گھر کی روح رواں گھر اداس ہے

گلہائے نو بہار ہیں آنگن میں زرد زرد

پیڑوں پہ کھل رہی ہے خزاں گھر اداس ہے

برہا برس رہی ہے فسردہ منڈیر سے

چڑیاں ہیں چھت پہ نوحہ کناں گھر اداس ہے

Saturday, 9 October 2021

درد و احساس کی تصویر غزل میں آئے

 درد و احساس کی تصویر غزل میں آئے

پھر کسی خواب کی تعبیر غزل میں آئے

اتنی وحشت کہ زمانوں کے پرانے قصے

اب الگ سی کوئی تاثیر غزل میں آئے

میرے ہاتھوں کی لکیروں کو ذرا غور سے دیکھ

تا کہ تجھ حُسن کی تصویر غزل میں آئے

Friday, 27 November 2020

دلوں میں وحشتیں آباد کر کے

 دلوں میں وحشتیں آباد کر کے

صدائیں دے رہی ہوں یاد کر کے

مجھے مارا ہے میرے دوستوں نے

❤نئی طرزِ ستم ایجاد کر کے

قفس میں ایک پنچھی رو رہا تھا

وطن کے رنگ و بُو سب یاد کر کے

Thursday, 26 November 2020

ندی کے شور میں دکھ سنتی کوہساروں کا

 ندی کے شور میں دکھ سنتی کوہساروں کا

تڑپنا دیکھتی پتھر پہ آبشاروں کا

کبھی خزاں کی مسرت کا تجزیہ کرتے

کبھی نظر میں بھی آتا الم بہاروں کا

بھٹک رہی ہیں حوادث میں کشتیاں لیکن

کوئی بھی ذکر نہیں کرتا اب کناروں کا