چوکھٹ پہ تیری لطف صدا کا خرید کر
صدیاں خرید لی ہیں یہ لمحہ خرید کر
اس بے وفا سے پیار کی قیمت نہ لگ سکی
لائے گا میرے واسطے دنیا خرید کر
شہرِ ہنر سے خود ہی بڑی شدتوں سے ہم
لے آئے آنسوؤں کا یہ دریا خرید کر
چوکھٹ پہ تیری لطف صدا کا خرید کر
صدیاں خرید لی ہیں یہ لمحہ خرید کر
اس بے وفا سے پیار کی قیمت نہ لگ سکی
لائے گا میرے واسطے دنیا خرید کر
شہرِ ہنر سے خود ہی بڑی شدتوں سے ہم
لے آئے آنسوؤں کا یہ دریا خرید کر
مری آرزو کے ٹکڑے، ہُوا خوش ہزار کر کے
ملا کیا اسے بتاؤ،۔ دلِ تار تار کر کے
نہ ہی چین دل نے پایا نہ وصال رُت کی سُوجھی
یہ کہ عمر کٹ گئی ہے، تِرا انتظار کر کے
بڑے اطمینان سے تھی، تہِ امتحاں بھی دنیا
غمِ دل کو لوٹنے پر، مجھے سوگوار کر کے
ایک پل کے لیے تھے وہ آئے نظر
عمر بھر دل پکارا کہ ہائے نظر
پھول بن کر ہمیشہ ہی کھلتی رہے
چاند بن کر کبھی جگمگائے نظر
وقت رخصت تِری چشم نم کیا کہوں
کاش منظر مِری بھول جائے نظر
دیتے ہیں دعا درد کے مارے اسے کہنا
پلکوں سے ذرا بوجھ اتارے اسے کہنا
اب کوئی بھی رت بھاتی نہیں دیدۂ دل کو
لگتے ہیں سبھی زہر نظارے اسے کہنا
ہوتی ہی نہیں ہم سے محبت کی تجارت
اس دور میں ہیں صرف خسارے اسے کہنا
کچھ خوف وادیوں کے کنارے ملے مجھے
کتنے دنوں کے بعد سہارے ملے مجھے
اک عمر خوابِ عشق سے آنکھیں بھری رہیں
تب جا کے عرشِ دل کے ستارے ملے مجھے
رستے میں جو بھی چھوڑ گئے کیا کہوں انہیں
کتنے عجیب تر تھے جو پیارے ملے مجھے
اک ادھورا خواب ہے جو تعبیر کے چکر کاٹ رہا ہے
جیسے نِسبت والا کوئی، پِیر کے چکر کاٹ رہا ہے
کیسی یہ اک وحشت سی ہے ایک اسیر جو مدت سے
آزادی کو پا کر بھی زنجیر کے چکر کاٹ رہا ہے
کس کا نام دھیان میں آیا تعظیماً یہ جس کے لیے
عشق یہ میرا ان لکھی تحریر کے چکر کاٹ رہا ہے
آنکھیں ہیں اشک دل ہے دھواں گھر اداس ہے
تجھ بِن اے گھر کی روح رواں گھر اداس ہے
گلہائے نو بہار ہیں آنگن میں زرد زرد
پیڑوں پہ کھل رہی ہے خزاں گھر اداس ہے
برہا برس رہی ہے فسردہ منڈیر سے
چڑیاں ہیں چھت پہ نوحہ کناں گھر اداس ہے
درد و احساس کی تصویر غزل میں آئے
پھر کسی خواب کی تعبیر غزل میں آئے
اتنی وحشت کہ زمانوں کے پرانے قصے
اب الگ سی کوئی تاثیر غزل میں آئے
میرے ہاتھوں کی لکیروں کو ذرا غور سے دیکھ
تا کہ تجھ حُسن کی تصویر غزل میں آئے
دلوں میں وحشتیں آباد کر کے
صدائیں دے رہی ہوں یاد کر کے
مجھے مارا ہے میرے دوستوں نے
❤نئی طرزِ ستم ایجاد کر کے
قفس میں ایک پنچھی رو رہا تھا
وطن کے رنگ و بُو سب یاد کر کے
ندی کے شور میں دکھ سنتی کوہساروں کا
تڑپنا دیکھتی پتھر پہ آبشاروں کا
کبھی خزاں کی مسرت کا تجزیہ کرتے
کبھی نظر میں بھی آتا الم بہاروں کا
بھٹک رہی ہیں حوادث میں کشتیاں لیکن
کوئی بھی ذکر نہیں کرتا اب کناروں کا