دیتے ہیں دعا درد کے مارے اسے کہنا
پلکوں سے ذرا بوجھ اتارے اسے کہنا
اب کوئی بھی رت بھاتی نہیں دیدۂ دل کو
لگتے ہیں سبھی زہر نظارے اسے کہنا
ہوتی ہی نہیں ہم سے محبت کی تجارت
اس دور میں ہیں صرف خسارے اسے کہنا
ممکن ہے مِرے لوٹ کے آنے کا تصور
اک بار مجھے دل سے پکارے اسے کہنا
میں رنگ سجاوٹ کے سبھی بھول چکی ہوں
اب آ کے مِرا روپ نکھارے اسے کہنا
انسان بھی اب سانپوں کی فطرت میں ڈھلے ہیں
ہر شخص عجب روپ ہے دھارے اسے کہنا
بکھرے ہوئے اپنے ہی خد و خال میں گم ہوں
آئینے میں پھر عکس سنوارے اسے کہنا
کہنا کہ مِری مانگ میں سورج تو نہیں ہے
پہلو میں سجا دے سبھی تارے اسے کہنا
اسماء ہادیہ
No comments:
Post a Comment