Saturday, 16 October 2021

دیتے ہیں دعا درد کے مارے اسے کہنا

 دیتے ہیں دعا درد کے مارے اسے کہنا

پلکوں سے ذرا بوجھ اتارے اسے کہنا 

اب کوئی بھی رت بھاتی نہیں دیدۂ دل کو 

لگتے ہیں سبھی زہر نظارے اسے کہنا 

ہوتی ہی نہیں ہم سے محبت کی تجارت 

اس دور میں ہیں صرف خسارے اسے کہنا

 ممکن ہے مِرے لوٹ کے آنے کا تصور 

اک بار مجھے دل سے پکارے اسے کہنا 

میں رنگ سجاوٹ کے سبھی بھول چکی ہوں 

اب آ کے مِرا روپ نکھارے اسے کہنا 

انسان بھی اب سانپوں کی فطرت میں ڈھلے ہیں

ہر شخص عجب روپ ہے دھارے اسے کہنا 

بکھرے ہوئے اپنے ہی خد و خال میں گم ہوں 

آئینے میں پھر عکس سنوارے اسے کہنا 

کہنا کہ مِری مانگ میں سورج تو نہیں ہے 

پہلو میں سجا دے سبھی تارے اسے کہنا 


اسماء ہادیہ

No comments:

Post a Comment