اقتباس از ترانۂ وطن
ہمارا وطن ہے ہمارا وطن
زمانے کی آنکھوں کا تارا وطن
ہمیں ساری دنیا سے پیا را وطن
تو غیروں کے پھندے سے آزاد ہو
پشیمان باہر کا صیاد ہو
دکھا دے یہ دلکش نظارا وطن
اقتباس از ترانۂ وطن
ہمارا وطن ہے ہمارا وطن
زمانے کی آنکھوں کا تارا وطن
ہمیں ساری دنیا سے پیا را وطن
تو غیروں کے پھندے سے آزاد ہو
پشیمان باہر کا صیاد ہو
دکھا دے یہ دلکش نظارا وطن
اقتباس از منظر رخصت
اے اہل وفا ماتم نہ کرو، وہ وعدہ شکن گر جاتا ہے
جاتا ہے مسافر غم نہ کرو، مہماں ہی تھا گھر جاتا ہے
وہ دور مسرت آنے دو، قومی پرچم لہرانے دو
جاتی ہے غلامی جانے دو، صدیوں کا دلدر جاتا ہے
مل جل کے بڑھاؤ شان وطن، تعمیر کرو ایوان وطن
ماں جائے ہیں فرزندان وطن، جو غیر تھا باہر جاتا ہے
اقتباس از ناصح و مجنوں
کسی بے درد ناصح نے کہا اک دن یہ مجنوں سے
غمِ لیلیٰ میں کیوں کرتا ہے ظالم! آہ و واویلا
تِرے اس نالہ و شیون سے کب وہ رام ہوتا ہے
ذرا کچھ عقل کے ناخن لے اتنا پاؤں مت پھیلا
تِرا کیا منہ جو اس غارت گرِ ایماں کا طالب ہو
شعاعِ مہر چُھو جانے سے جس کا رنگ ہو میلا
تیور جو اسیروں کے بگڑے، صیاد کی ہمت چھوٹ گئی
اے ذوقِ جنوں! تیرے صدقے، زنجیرِ غلامی ٹوٹ گئی
باندھے ہوئے اپنے سر سے کفن، نکلے جو فداکارانِ وطن
صیاد کا زہرا آب ہوا،۔ نبض اہلِ وفا کی چھوٹ گئی
گلزارِ وطن آباد ہوا،۔ ہر سر وِ چمن آزاد ہوا
رخصت وہ ستم ایجاد ہوا، وہ قہر گیا، وہ لوٹ گئی
انجام وفا بھی دیکھ لیا اب کس لیے سر خم ہوتا ہے
نازک ہے مزاج حسن بہت سجدے سے بھی برہم ہوتا ہے
مل جل کے بہ رنگ شیر و شکر دونوں کے نکھرتے ہیں جوہر
دریاؤں کے سنگم سے بڑھ کر تہذیب کا سنگم ہوتا ہے
کچھ ما و شما میں فرق نہیں کچھ شاہ و گدا میں بھید نہیں
ہم بادہ کشوں کی محفل میں ہر جام بکف جم ہوتا ہے
اف کیا مزا ملا ستمِ روزگار میں
کیا تم چھپے تھے پردۂ لیل و نہار میں
سو سجدے ایک لغزشِ مستانہ وار میں
اللہ کیا ادا ہے تِرے بادہ خوار میں
روکوں تو موج غم کو دلِ بے قرار میں
ساغر چھلک نہ جائے کفِ رعشہ دار میں
پیغامِ رہائی دیا ہر چند قضا نے
دیکھا بھی نہ اس سمت اسیرانِ وفا نے
کہہ دوں گا جو کی پُرسشِ اعمال خدا نے
فُرصت ہی نہ دی کشمکشِ بیم و رجا نے
ہے رشکِ ارم وادئ پُر خارِ محبت
شاید اسے سینچا ہے کسی آبلہ پا نے
زبانوں پر نہیں اب طور کا فسانہ برسوں سے
تجلی گاہِ ایمن ہے دلِ دیوانہ برسوں سے
کچھ ایسا ہے فریبِ نرگسِ مستانہ برسوں سے
کہ سب بھولے ہوئے ہیں کعبہ و بتخانہ برسوں سے
وہ چشمِ فتنہ گر ہے ساقئ مے خانہ برسوں سے
کہ باہم لڑ رہے ہیں شیشہ و پیمانہ برسوں سے
حریمِ دل میں وہ حسنِ مطلق جو برسرِ جلوہ افگنی ہے
تو محرمانِ وصال کے لب پہ ہٰذہِ ما وعدتنی ہے
نہ کیوں ہو آنکھوں کا جائے ابرو کہ اوجِ فیضِ فروتنی ہے
ہوا تواضع سے جب خمیدہ بڑھی مہِ نو کی روشنی ہے
دو روزہ رفعت پہ ناز مت کر کہ بحرِ ہستی کے جزر و مد میں
یہ گنبدِ چرخ بھی کسی دن حباب آسا شکستنی ہے
صدا فریاد کی آئے کہیں سے
وہ ظالم بد گماں ہو گا ہمیں سے
خدا سمجھے بتِ سحر آفریں سے
گریباں کو لڑایا آستیں سے
چمن ہے شعلۂ گل سے چراغاں
بہار آئی نوائے آتشیں سے
اب دل کو ہم نے بندۂ جاناں بنا دیا
اک کافرِ ازل کو مسلماں بنا دیا
دشواریوں کو عشق نے آساں بنا دیا
غم کو سرور، درد کو درماں بنا دیا
اس جاں فزا عتاب کے قربان جائیے
ابرو کی ہر شکن کو رگِ جاں بنا دیا
ان کے جلوے سحاب ہیں جیسے
ان کے سپنے سراب ہیں جیسے
ان کی آنکھیں ہیں گویا پیمانے
جن میں ڈورے، شراب ہیں جیسے
ان کے رخسار، جیسے آتش داں
ان کے لب ہیں، گلاب ہیں جیسے