Showing posts with label اقبال سہیل. Show all posts
Showing posts with label اقبال سہیل. Show all posts

Sunday, 13 August 2023

ہمارا وطن ہے ہمارا وطن

 اقتباس از ترانۂ وطن


ہمارا وطن ہے ہمارا وطن

زمانے کی آنکھوں کا تارا وطن

ہمیں ساری دنیا سے پیا را وطن

تو غیروں کے پھندے سے آزاد ہو

پشیمان باہر کا صیاد ہو

دکھا دے یہ دلکش نظارا وطن

مل جل کے بڑھاؤ شان وطن تعمیر کرو ایوان وطن

 اقتباس از منظر رخصت


اے اہل وفا ماتم نہ کرو، وہ وعدہ شکن گر جاتا ہے

جاتا ہے مسافر غم نہ کرو، مہماں ہی تھا گھر جاتا ہے

وہ دور مسرت آنے دو، قومی پرچم لہرانے دو

جاتی ہے غلامی جانے دو، صدیوں کا دلدر جاتا ہے

مل جل کے بڑھاؤ شان وطن، تعمیر کرو ایوان وطن

ماں جائے ہیں فرزندان وطن، جو غیر تھا باہر جاتا ہے

Thursday, 20 July 2023

کسی بے درد ناصح نے کہا اک دن یہ مجنوں سے

 اقتباس از ناصح و مجنوں


کسی بے درد ناصح نے کہا اک دن یہ مجنوں سے

غمِ لیلیٰ میں کیوں کرتا ہے ظالم! آہ و واویلا

تِرے اس نالہ و شیون سے کب وہ رام ہوتا ہے

ذرا کچھ عقل کے ناخن لے اتنا پاؤں مت پھیلا

تِرا کیا منہ جو اس غارت گرِ ایماں کا طالب ہو

شعاعِ مہر چُھو جانے سے جس کا رنگ ہو میلا

Wednesday, 5 July 2023

تیور جو اسیروں کے بگڑے صیاد کی ہمت چھوٹ گئی

 تیور جو اسیروں کے بگڑے، صیاد کی ہمت چھوٹ گئی

اے ذوقِ جنوں! تیرے صدقے، زنجیرِ غلامی ٹوٹ گئی

باندھے ہوئے اپنے سر سے کفن، نکلے جو فداکارانِ وطن

صیاد کا زہرا آب ہوا،۔ نبض اہلِ وفا کی چھوٹ گئی

گلزارِ وطن آباد ہوا،۔ ہر سر وِ چمن آزاد ہوا

رخصت وہ ستم ایجاد ہوا، وہ قہر گیا، وہ لوٹ گئی

Thursday, 7 April 2022

انجام وفا بھی دیکھ لیا اب کس لیے سر خم ہوتا ہے

 انجام وفا بھی دیکھ لیا اب کس لیے سر خم ہوتا ہے

نازک ہے مزاج حسن بہت سجدے سے بھی برہم ہوتا ہے

مل جل کے بہ رنگ شیر و شکر دونوں کے نکھرتے ہیں جوہر

دریاؤں کے سنگم سے بڑھ کر تہذیب کا سنگم ہوتا ہے

کچھ ما و شما میں فرق نہیں کچھ شاہ و گدا میں بھید نہیں

ہم بادہ کشوں کی محفل میں ہر جام بکف جم ہوتا ہے

Saturday, 2 October 2021

اف کیا مزا ملا ستم روزگار میں

 اف کیا مزا ملا ستمِ روزگار میں

کیا تم چھپے تھے پردۂ لیل و نہار میں

سو سجدے ایک لغزشِ مستانہ وار میں

اللہ کیا ادا ہے تِرے بادہ خوار میں

روکوں تو موج غم کو دلِ بے قرار میں

ساغر چھلک نہ جائے کفِ رعشہ دار میں

Monday, 27 September 2021

پیغام رہائی دیا ہر چند قضا نے

 پیغامِ رہائی دیا ہر چند قضا نے

دیکھا بھی نہ اس سمت اسیرانِ وفا نے

کہہ دوں گا جو کی پُرسشِ اعمال خدا نے

فُرصت ہی نہ دی کشمکشِ بیم و رجا نے

ہے رشکِ ارم وادئ پُر خارِ محبت

شاید اسے سینچا ہے کسی آبلہ پا نے

Sunday, 26 September 2021

زبانوں پر نہیں اب طور کا فسانہ برسوں سے

 زبانوں پر نہیں اب طور کا فسانہ برسوں سے

تجلی گاہِ ایمن ہے دلِ دیوانہ برسوں سے

کچھ ایسا ہے فریبِ نرگسِ مستانہ برسوں سے

کہ سب بھولے ہوئے ہیں کعبہ و بتخانہ برسوں سے

وہ چشمِ فتنہ گر ہے ساقئ مے خانہ برسوں سے

کہ باہم لڑ رہے ہیں شیشہ و پیمانہ برسوں سے

Saturday, 25 September 2021

حریم دل میں وہ حسن مطلق جو برسر جلوہ افگنی ہے

 حریمِ دل میں وہ حسنِ مطلق جو برسرِ جلوہ افگنی ہے

تو محرمانِ وصال کے لب پہ ہٰذہِ ما وعدتنی ہے

نہ کیوں ہو آنکھوں کا جائے ابرو کہ اوجِ فیضِ فروتنی ہے

ہوا تواضع سے جب خمیدہ بڑھی مہِ نو کی روشنی ہے

دو روزہ رفعت پہ ناز مت کر کہ بحرِ ہستی کے جزر و مد میں

یہ گنبدِ چرخ بھی کسی دن حباب آسا شکستنی ہے

Friday, 24 September 2021

صدا فریاد کی آئے کہیں سے

 صدا فریاد کی آئے کہیں سے

وہ ظالم بد گماں ہو گا ہمیں سے

خدا سمجھے بتِ سحر آفریں سے

گریباں کو لڑایا آستیں سے

چمن ہے شعلۂ گل سے چراغاں

بہار آئی نوائے آتشیں سے

اب دل کو ہم نے بندۂ جاناں بنا دیا

 اب دل کو ہم نے بندۂ جاناں بنا دیا

اک کافرِ ازل کو مسلماں بنا دیا

دشواریوں کو عشق نے آساں بنا دیا

غم کو سرور، درد کو درماں بنا دیا

اس جاں فزا عتاب کے قربان جائیے

ابرو کی ہر شکن کو رگِ جاں بنا دیا

Thursday, 18 March 2021

ان کے جلوے سحاب ہیں جیسے

 ان کے جلوے سحاب ہیں جیسے

ان کے سپنے سراب ہیں جیسے

ان کی آنکھیں ہیں گویا پیمانے

جن میں ڈورے، شراب ہیں جیسے

ان کے رخسار، جیسے آتش داں

ان کے لب ہیں، گلاب ہیں جیسے