Showing posts with label ایوب صابر. Show all posts
Showing posts with label ایوب صابر. Show all posts

Wednesday, 20 December 2023

پر کیف مناظر ہیں دن رات مدینے میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


پُر کیف مناظر ہیں دن رات مدینے میں

رحمت کی برستی ہے برسات مدینے میں

میں آقاؐ کے روضے پر رو رو کے دُعا مانگوں

مل جاتی ہے بخشش کی سوغات مدینے میں

آقاﷺ کے قدم چُھو کر اُجلی ہے زمیں دیکھو

سُورج کی طرح دیکھے ذرات مدینے میں

Tuesday, 26 April 2022

کسی مجبور کی آنکھوں کے اندر دیکھ لیتا ہوں

کسی مجبور کی آنکھوں کے اندر دیکھ لیتا ہوں

میں آنکھیں بند کر کے بھی سمندر دیکھ لیتا ہوں

مجھے جب شاہ کے دربار میں جانے کی خواہش ہو

پھٹی پوشاک میں پھرتا قلندر دیکھ لیتا ہوں

مِرے دشمن نے دونوں ہاتھ جو پیچھے چُھپائے ہیں

مگر میں پھر بھی اُس کے پاس خنجر دیکھ لیتا ہوں

Wednesday, 22 December 2021

دم بخود ہیں دیکھ کر سارے قلندر کی دھمال

دم بخود ہیں دیکھ کر سارے قلندر کی دھمال

اُس نے باہر پھینک دی ہے اپنے اندر کی دھمال

پگڑیاں تو کیا، کوئی سر بھی سلامت کب رہا

شہر میں ہونے لگی جس روز پتھر کی دھمال

دیکھ آیا ہوں بگُولے رقص کرتے ریت پر

جم گئی ہے آنکھ کے اندر وہ منظر کی دھمال

Saturday, 10 July 2021

جس نے ساری عمر کاٹی مفلسی کی قید میں

جس نے ساری عمر کاٹی مفلسی کی قید میں

آج بھی زندہ ہے دیکھو زندگی کی قید میں

قابلِ تعزیر ٹھہرا ہے اجالے کا سفیر

ایک جگنو مر گیا ہے روشنی کی قید میں

کتنا مشکل اِن کو رکھنا قلب کے زندان میں

خواہشیں ماتم کناں ہیں آدمی کی قید میں