عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پُر کیف مناظر ہیں دن رات مدینے میں
رحمت کی برستی ہے برسات مدینے میں
میں آقاؐ کے روضے پر رو رو کے دُعا مانگوں
مل جاتی ہے بخشش کی سوغات مدینے میں
آقاﷺ کے قدم چُھو کر اُجلی ہے زمیں دیکھو
سُورج کی طرح دیکھے ذرات مدینے میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پُر کیف مناظر ہیں دن رات مدینے میں
رحمت کی برستی ہے برسات مدینے میں
میں آقاؐ کے روضے پر رو رو کے دُعا مانگوں
مل جاتی ہے بخشش کی سوغات مدینے میں
آقاﷺ کے قدم چُھو کر اُجلی ہے زمیں دیکھو
سُورج کی طرح دیکھے ذرات مدینے میں
کسی مجبور کی آنکھوں کے اندر دیکھ لیتا ہوں
میں آنکھیں بند کر کے بھی سمندر دیکھ لیتا ہوں
مجھے جب شاہ کے دربار میں جانے کی خواہش ہو
پھٹی پوشاک میں پھرتا قلندر دیکھ لیتا ہوں
مِرے دشمن نے دونوں ہاتھ جو پیچھے چُھپائے ہیں
مگر میں پھر بھی اُس کے پاس خنجر دیکھ لیتا ہوں
دم بخود ہیں دیکھ کر سارے قلندر کی دھمال
اُس نے باہر پھینک دی ہے اپنے اندر کی دھمال
پگڑیاں تو کیا، کوئی سر بھی سلامت کب رہا
شہر میں ہونے لگی جس روز پتھر کی دھمال
دیکھ آیا ہوں بگُولے رقص کرتے ریت پر
جم گئی ہے آنکھ کے اندر وہ منظر کی دھمال
جس نے ساری عمر کاٹی مفلسی کی قید میں
آج بھی زندہ ہے دیکھو زندگی کی قید میں
قابلِ تعزیر ٹھہرا ہے اجالے کا سفیر
ایک جگنو مر گیا ہے روشنی کی قید میں
کتنا مشکل اِن کو رکھنا قلب کے زندان میں
خواہشیں ماتم کناں ہیں آدمی کی قید میں