Showing posts with label نوین جوشی. Show all posts
Showing posts with label نوین جوشی. Show all posts

Saturday, 18 July 2026

فریضہ ہے سو ہم نبھایا کریں گے

 فریضہ ہے سو ہم نبھایا کریں گے

چراغوں کو مجلس میں لایا کریں گے

اندھیروں اُجالوں کی ہے یہ لڑائی

بُجھاؤ گے تم، ہم جلایا کریں گے

چُھپاؤ گے چہرہ کہاں تک تم اپنا

ہم اک آئینہ بن کے آیا کریں گے

Wednesday, 11 March 2026

قربتوں میں کہیں فاصلہ رہ گیا

 میرے خوابوں کو مجھ سے گلہ رہ گیا

میں حقیقت میں ہی مبتلا رہ گیا

میں بھی قصے سناتا سفر کے مگر

یاد مجھ کو بس اک مرحلہ رہ گیا

رہ گئے کتنے کردار بھیتر مِرے

میرے بھیتر مِرا قافلہ رہ گیا

Sunday, 4 August 2024

جب صبح ہوئی آئی جب سانجھ ڈھلی آئی

 جب صبح ہوئی آئی جب سانجھ ڈھلی آئی

ہے یاد تِری تجھ سی بے باک چلی آئی

تھا بے نمو سا مجھ میں اک پودا محبت کا

یہ معجزہ ہے تیرا جو اس پہ کلی آئی

احسان ہوا کا ہے بیکل مِری سانسوں پہ

خوشبو تِرے دامن کی لے کر یہ چلی آئی

Thursday, 27 June 2024

زخم ناسور کوئی ہونے سے

 زخم ناسور کوئی ہونے سے

درد اُگتا ہے درد بونے سے

وہ تھا مرکوز میرے مرکز پہ

اور اُدھڑتا رہا میں کونے سے

چلو اب ہنس کے دیکھ لیتے ہیں

 دل پگھلتے نہیں ہیں رونے سے

Wednesday, 12 June 2024

رنج یوں راہ مسافت میں ملے

 رنج یوں راہِ مسافت میں مِلے

کچھ کمائے کچھ وِراثت میں ملے

فلسفے جو نہ صداقت میں ملے

وہ سبھی ہم کو ضرورت میں ملے

خواب تک میں آج کل رِسنے لگے

زخم ہم کو جو حقیقت میں ملے