فریضہ ہے سو ہم نبھایا کریں گے
چراغوں کو مجلس میں لایا کریں گے
اندھیروں اُجالوں کی ہے یہ لڑائی
بُجھاؤ گے تم، ہم جلایا کریں گے
چُھپاؤ گے چہرہ کہاں تک تم اپنا
ہم اک آئینہ بن کے آیا کریں گے
فریضہ ہے سو ہم نبھایا کریں گے
چراغوں کو مجلس میں لایا کریں گے
اندھیروں اُجالوں کی ہے یہ لڑائی
بُجھاؤ گے تم، ہم جلایا کریں گے
چُھپاؤ گے چہرہ کہاں تک تم اپنا
ہم اک آئینہ بن کے آیا کریں گے
میرے خوابوں کو مجھ سے گلہ رہ گیا
میں حقیقت میں ہی مبتلا رہ گیا
میں بھی قصے سناتا سفر کے مگر
یاد مجھ کو بس اک مرحلہ رہ گیا
رہ گئے کتنے کردار بھیتر مِرے
میرے بھیتر مِرا قافلہ رہ گیا
جب صبح ہوئی آئی جب سانجھ ڈھلی آئی
ہے یاد تِری تجھ سی بے باک چلی آئی
تھا بے نمو سا مجھ میں اک پودا محبت کا
یہ معجزہ ہے تیرا جو اس پہ کلی آئی
احسان ہوا کا ہے بیکل مِری سانسوں پہ
خوشبو تِرے دامن کی لے کر یہ چلی آئی
زخم ناسور کوئی ہونے سے
درد اُگتا ہے درد بونے سے
وہ تھا مرکوز میرے مرکز پہ
اور اُدھڑتا رہا میں کونے سے
چلو اب ہنس کے دیکھ لیتے ہیں
دل پگھلتے نہیں ہیں رونے سے
رنج یوں راہِ مسافت میں مِلے
کچھ کمائے کچھ وِراثت میں ملے
فلسفے جو نہ صداقت میں ملے
وہ سبھی ہم کو ضرورت میں ملے
خواب تک میں آج کل رِسنے لگے
زخم ہم کو جو حقیقت میں ملے