Showing posts with label ساحر بھوپالی. Show all posts
Showing posts with label ساحر بھوپالی. Show all posts

Saturday, 3 December 2016

کپکپی چھا گئی ہنگام سلام آتے ہی

کپکپی چھا گئی ہنگامِ سلام آتے ہی
کھل گیا سارا بھرم دل کا مقام آتے ہی
رسمِ تعظیم کجا، دیکھتے ہی ان کی جھلک
گر گئے سجدے میں ہم وقتِ قیام آتے ہی
یا تو تھا سر بہ گریباں میں وفورِ غم سے
یا وہ سب بھول گیا ہاتھ میں جام آتے ہی

گل کھلے ہیں بہار کے دن ہیں

گل کھلے ہیں بہار کے دن ہیں
لطفِ پروردگار کے دن ہیں
دھوم ہے جبرِ غم کے ماروں میں
حسن کے اختیار کے دن ہیں
دام پھیلے ہوئے ہیں زلفوں کے
پھر دلوں کے شکار کے دن ہیں

نہیں کچھ ملال اس کا کہ بدل گیا زمانہ

نہیں کچھ ملال اس کا کہ بدل گیا زمانا
مِری زندگی کے مالک کہیں تم بدل نہ جانا
کبھی لطف سے جلایا کبھی بے رخی سے مارا
کبھی زندگی حقیقت، کبھی زندگی فسانا
تِری کس ادا پہ اپنے دل و جان صدقے کر دوں
نہ کرم کی کچھ نہایت، نہ ستم کا کچھ ٹھکانا

دل میں اب درد محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

دل میں اب دردِ محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
زندگی میری عبادت کے سوا کچھ بھی نہیں
میں تیری بارگاہِ ناز میں کیا پیش کروں
میری جھولی میں محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
اے خدا! مجھ سے نہ لے میرے گناہوں‌ کا حساب
میرے پاس اشکِ ندامت کے سوا کچھ بھی نہیں

Saturday, 7 May 2016

بتا دے اے مرے ساقی کی مستانوں کا کیا ہو گا

بتا دے اے مِرے ساقی کی مستانوں کا کیا ہو گا
اگر یہ توبہ کر لیں گے تو مے خانوں کا کیا ہو گا
جنہیں میں کہہ گیا، وہ درسِ غم تو دے گئے سب کو
لبوں تک جو نہیں آئے،ان افسانوں کا کیا ہو گا
اگر آبادیاں صحرا بنا دیں گے یہ فرزانے
خدا جانے کہ پھر انجام ویرانوں کا کیا ہو گا

اگر میں نگاہ محبت اٹھا دوں

اگر میں نگاہِ محبت اٹھا دوں
تو پھر تیرا چھپنا بھی مشکل بنا دوں
یہاں تک بڑھے کاش یہ لذتِ غم
وہ مجھ کو ستائے میں اس کو دعا دوں
مِرا بس چلے تو محبت کی خاطر
ہر اک کو میں اپنا ہی جیسا بنا دوں

سزاوار رشک جہاں ہو گئے ہم

سزا وارِ رشکِ جہاں ہو گئے ہم
تِرے عشق میں بے نشاں ہو گئے ہم
فسانہ غمِ ہجر کا کہتے کہتے
خود عبرت کی اک داستاں ہو گئے ہم
شب و روز بڑھتی گئی سوزشِ غم
یہاں تک کہ آتش بجاں ہو گئے ہم

Tuesday, 22 March 2016

ترے بغیر سکون و قرار کو ترسے

تِرے بغیر سکون و قرار کو ترسے
بہار میں بھی ہم اپنی بہار کو ترسے
ملا نہ چین کسی کل انہیں بھی تڑپا کر
قرار چھین کے وہ بھی قرار کو ترسے
وہ سامنے تھے مگر چشمِ شوق اٹھ نہ سکی
دمِ وصال بھی دیدارِ یار کو ترسے

ہوں ازل سے منتظر بیٹھا ہوا

ہوں ازل سے منتظر بیٹھا ہوا
اک قیامت آپ کا وعدہ ہوا
وہ تو الزامِ وفا سے بچ گئے
عشق میرا مفت میں رسوا ہوا
بات جو نظروں نے نظروں سے کہی
دور تک اس بات کا چرچا ہوا

خدا کے واسطے اب بے رخی سے کام نہ لے

خدا کے واسطے اب بے رخی سے کام نہ لے
تڑپ کے پھر کوئی دامن کو تیرے تھام نہ لے
بس اک سجدۂ شکرانہ پائے نازک پر
یہ مے کدہ ہے یہاں پر خدا کا نام نہ لے
زمانے بھر میں ہیں چرچے میری تباہی کی
میں ڈر رہا ہوں کوئی تیرا نام نہ لے