کون کہتا ہے کہ آسانی بہت ہوتی ہے؟
عشق میں ویسے پریشانی بہت ہوتی ہے
بِنتِ انگور! مِرے گھر میں مناجات کرو
جب بھی آتا ہوں میں وِیرانی بہت ہوتی ہے
اِس کا درجہ لب و رُخسار سے اُوپر ہے تبھی
چُومنے کے لیے پیشانی بہت ہوتی ہے
کون کہتا ہے کہ آسانی بہت ہوتی ہے؟
عشق میں ویسے پریشانی بہت ہوتی ہے
بِنتِ انگور! مِرے گھر میں مناجات کرو
جب بھی آتا ہوں میں وِیرانی بہت ہوتی ہے
اِس کا درجہ لب و رُخسار سے اُوپر ہے تبھی
چُومنے کے لیے پیشانی بہت ہوتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
زمیں بنائی گئی، آسماں بنائے گئے
اُنہی کے واسطے دونوں جہاں بنائے گئے
نبی کی شان کو کچھ اس طرح سے پیش کیا
جہاں پہ کچھ نہیں بنتا، وہاں بنائے گئے
خدا کی کاری گری ہے عظیم پیکر میں
امیں بنائے گئے، مہرباں بنائے گئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اخلاقِ اُنسیت بھی ہے سادہ حضورؐ کا
دم دم ہے لَم یَزَل کوئی وعدہ حضورؐ کا
معیارِ خال و خد کا نیا زاویہ ہے یہ
روشن جبین، سینہ کشادہ حضورؐ کا
سوچوں نے سر پہ باندھ لی دستارِ چاکری
پہنا ہوا ہے دل نے لبادہ حضورؐ کا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بڑھ رہی ہے نور کی میزان میں مقدارِ میم
مشک بارِ ضوفشاں ہے حیطۂ انوارِ میمﷺ
منصبِ محمود کی نسبت سے ہی واضح ہوا
بر سرِ افلاک زعمِ عظمتِ اظہارِ میمﷺ
ہر طرح سے ممتنع ہوں مشکلاتِ آدمی
اس لیے تو راہ میں ہے سایۂ دیوارِ میم