ان دلبروں کی بات میں اپنی جگہ کہاں
اس پوری کائنات میں اپنی جگہ کہاں
وہ ناصحانہ شہر کو شامل کریں گے اب
پیچیدہ حادثات میں اپنی جگہ کہاں
یہ سوچ کر میں آپ کی محفل سے اٹھ گیا
اس حلقۂ اثبات میں اپنی جگہ کہاں
ان دلبروں کی بات میں اپنی جگہ کہاں
اس پوری کائنات میں اپنی جگہ کہاں
وہ ناصحانہ شہر کو شامل کریں گے اب
پیچیدہ حادثات میں اپنی جگہ کہاں
یہ سوچ کر میں آپ کی محفل سے اٹھ گیا
اس حلقۂ اثبات میں اپنی جگہ کہاں
دل پہ چھالے ہیں لب پہ نالہ ہے
اب یہ وحشت مِرا حوالہ ہے
جیسے پالے ہے ماں اپاہج کو
میں نے ایسے غموں کو پالا ہے
موجِ گِریہ سنبھال رکھے ہے
میں نے خود کو کہاں سنبھالا ہے
آپ سمجھیں میرے افکار، یہ ضروری تو نہیں
دُکھ دیں مجھے اغیار، یہ ضروری تو نہیں
💢کچھ لوگ مقرر ہیں اذیت کے لیے💢
سکوں سب کو ہو درکار، یہ ضروری تو نہیں
اے قلمکار🖊! موت بھی عنایت کر مجھ کو
ہر کہانی میں ہو زندہ کردار، یہ ضروری تو نہیں
غم میں سنور چکا ہوں میں، اب آپ جائیے
رو کر نکھر چکا ہوں میں، اب آپ جائیے
ہر بات کا جواب ہے، خاموش ہوں مگر
شاید کہ مر چکا ہوں میں، اب آپ جائیے
میں انگلیوں میں آپ کی گھوما ہوں عمر بھر
پر اب ٹھہر چکا ہوں میں، اب آپ جائیے
ایک وقت پہ ٹھہرا ہوں تو حیرت کیسی
ہر غم کا میں چہرہ ہوں تو حیرت کیسی
وہ اکثر مجھے درپن بھی کہا کرتا تھا
اب جو ٹوٹ کے بِکھرا ہوں تو حیرت کیسی
اپنوں کی عداوت کو تھا پھینکا خود میں
میں کنوئیں کی طرح گہرا ہوں تو حیرت کیسی
میں کیوں چنا گیا غمِ مرقوم کے لیے
دنیا میں کیا خوشی نہیں محکوم کے لیے
دل میں رُکا ہے قافلہ سفاک و بے لحاظ
پھر کیا جگہ بنے کسی مظلوم کے لیے
بس قصہ مختصر ہے مِرا کچھ نہیں بچا
میں بین کیا کروں کسی مفہوم کے لیے