Showing posts with label خرم نقوی. Show all posts
Showing posts with label خرم نقوی. Show all posts

Saturday, 21 October 2023

ان دلبروں کی بات میں اپنی جگہ کہاں

 ان دلبروں کی بات میں اپنی جگہ کہاں

اس پوری کائنات میں اپنی جگہ کہاں

وہ ناصحانہ شہر کو شامل کریں گے اب

پیچیدہ حادثات میں اپنی جگہ کہاں

یہ سوچ کر میں آپ کی محفل سے اٹھ گیا

اس حلقۂ اثبات میں اپنی جگہ کہاں

Monday, 19 September 2022

دل پہ چھالے ہیں لب پہ نالہ ہے

 دل پہ چھالے ہیں لب پہ نالہ ہے

اب یہ وحشت مِرا حوالہ ہے

جیسے پالے ہے ماں اپاہج کو

میں نے ایسے غموں کو پالا ہے

موجِ گِریہ سنبھال رکھے ہے

میں نے خود کو کہاں سنبھالا ہے

Wednesday, 7 September 2022

آپ سمجھیں میرے افکار یہ ضروری تو نہیں

 آپ سمجھیں میرے افکار، یہ ضروری تو نہیں

دُکھ دیں مجھے اغیار، یہ ضروری تو نہیں

💢کچھ لوگ مقرر ہیں اذیت کے لیے💢

سکوں سب کو ہو درکار، یہ ضروری تو نہیں

اے قلمکار🖊! موت بھی عنایت کر مجھ کو

ہر کہانی میں ہو زندہ کردار، یہ ضروری تو  نہیں

Saturday, 3 September 2022

غم میں سنور چکا ہوں میں اب آپ جائیے

 غم میں سنور چکا ہوں میں، اب آپ جائیے

رو کر نکھر چکا ہوں میں، اب آپ جائیے

ہر بات کا جواب ہے، خاموش ہوں مگر

شاید کہ مر چکا ہوں میں، اب آپ جائیے

میں انگلیوں میں آپ کی گھوما ہوں عمر بھر

پر اب ٹھہر چکا ہوں میں، اب آپ جائیے

Wednesday, 13 April 2022

ایک وقت پہ ٹھہرا ہوں تو حیرت کیسی

 ایک وقت پہ ٹھہرا ہوں تو حیرت کیسی

ہر غم کا میں چہرہ ہوں تو حیرت کیسی

وہ اکثر مجھے درپن بھی کہا کرتا تھا

اب جو ٹوٹ کے بِکھرا ہوں تو حیرت کیسی

اپنوں کی عداوت کو تھا پھینکا خود میں

میں کنوئیں کی طرح گہرا ہوں تو حیرت کیسی

Tuesday, 12 April 2022

میں کیوں چنا گیا غمِ مرقوم کے لیے

 میں کیوں چنا گیا غمِ مرقوم کے لیے

دنیا میں کیا خوشی نہیں محکوم کے لیے

دل میں رُکا ہے قافلہ سفاک و بے لحاظ

پھر کیا جگہ بنے کسی مظلوم کے لیے

بس قصہ مختصر ہے مِرا کچھ نہیں بچا

میں بین کیا کروں کسی مفہوم کے لیے