Showing posts with label زاہد وارثی. Show all posts
Showing posts with label زاہد وارثی. Show all posts

Tuesday, 29 March 2022

شناسائے تار رگ جاں نہیں تھا

 شناسائے تار رگ جاں نہیں تھا

مجھے اپنے ہونے کا عرفاں نہیں تھا

وہاں میں نے خوشبو کی بنیاد رکھی

جہاں پھول کھلنے کا امکاں نہیں تھا

تِرے ظرف کی آزمائش تھی ورنہ

مجھے زیر کر لینا آساں نہیں تھا

Wednesday, 22 December 2021

راس آ گئی ہے ظلمت زنداں تو کیا کروں

 راس آ گئی ہے ظلمتِ زنداں تو کیا کروں

میرے جنوں کا ہے یہی درماں تو کیا کروں

سانسوں کا قرض کیسے چکاؤں اے زندگی

مجھ سے نہ اٹھ سکے تِرا احساں تو کیا کروں

میرے بدن پہ دھوپ کی یورش، مِرا نصیب

ہے شرمسار دامنِ جاناں تو کیا کروں

Tuesday, 21 December 2021

تمہارے حسن کا چرچا رہے گا

 تمہارے حسن کا چرچا رہے گا

مگر میرا جنوں رُسوا رہے گا

میں فکرِ شعر میں کھویا ہوا ہوں

یہ دریا دور تک بہتا رہے گا

بہت رنگین ہے سانسوں کی دنیا

مگر، نابینا، نابینا رہے گا

Monday, 20 December 2021

لفظوں کے زیوروں سے سراپا سجی ہوئی

 لفظوں کے زیوروں سے سراپا سجی ہوئی

دیکھی ہے رات میں نے غزل بولتی ہوئی

بنیاد میں رکھی گئیں صدیوں کی کلفتیں

تب جا کے عشرتوں کی عمارت کھڑی ہوئی

یہ کون میری روح کو چُھو کر گُزر گیا

ہر سانس میں ہے لمس کی خُوشبو بسی ہوئی

Sunday, 19 December 2021

ابھرتی ڈوبتی سانسیں شمار کرتے ہوئے

 ابھرتی ڈوبتی سانسیں شمار کرتے ہوئے

میں جی رہا ہوں مگر روز روز مرتے ہوئے

یہ مرتبے مِرے ٹوٹے ہوئے چراغوں کے

سلام کرتے ہیں طوفان بھی گزرتے ہوئے

نواز دیتا ہے دل کو سکوں کے لمحوں سے

تِرا خمار، مِری روح میں اترتے ہوئے