شناسائے تار رگ جاں نہیں تھا
مجھے اپنے ہونے کا عرفاں نہیں تھا
وہاں میں نے خوشبو کی بنیاد رکھی
جہاں پھول کھلنے کا امکاں نہیں تھا
تِرے ظرف کی آزمائش تھی ورنہ
مجھے زیر کر لینا آساں نہیں تھا
شناسائے تار رگ جاں نہیں تھا
مجھے اپنے ہونے کا عرفاں نہیں تھا
وہاں میں نے خوشبو کی بنیاد رکھی
جہاں پھول کھلنے کا امکاں نہیں تھا
تِرے ظرف کی آزمائش تھی ورنہ
مجھے زیر کر لینا آساں نہیں تھا
راس آ گئی ہے ظلمتِ زنداں تو کیا کروں
میرے جنوں کا ہے یہی درماں تو کیا کروں
سانسوں کا قرض کیسے چکاؤں اے زندگی
مجھ سے نہ اٹھ سکے تِرا احساں تو کیا کروں
میرے بدن پہ دھوپ کی یورش، مِرا نصیب
ہے شرمسار دامنِ جاناں تو کیا کروں
تمہارے حسن کا چرچا رہے گا
مگر میرا جنوں رُسوا رہے گا
میں فکرِ شعر میں کھویا ہوا ہوں
یہ دریا دور تک بہتا رہے گا
بہت رنگین ہے سانسوں کی دنیا
مگر، نابینا، نابینا رہے گا
لفظوں کے زیوروں سے سراپا سجی ہوئی
دیکھی ہے رات میں نے غزل بولتی ہوئی
بنیاد میں رکھی گئیں صدیوں کی کلفتیں
تب جا کے عشرتوں کی عمارت کھڑی ہوئی
یہ کون میری روح کو چُھو کر گُزر گیا
ہر سانس میں ہے لمس کی خُوشبو بسی ہوئی
ابھرتی ڈوبتی سانسیں شمار کرتے ہوئے
میں جی رہا ہوں مگر روز روز مرتے ہوئے
یہ مرتبے مِرے ٹوٹے ہوئے چراغوں کے
سلام کرتے ہیں طوفان بھی گزرتے ہوئے
نواز دیتا ہے دل کو سکوں کے لمحوں سے
تِرا خمار، مِری روح میں اترتے ہوئے