عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قافلہ شہرِ نبیﷺ کوئی جو جاتا دیکھا
دل مِرا ساتھ میں جانے کو مچلتا دیکھا
میرے آقاﷺ کے لگے عرشِ بریں پر نعلین
ایسا تو عرش بریں نے کہاں تلوا دیکھا
درِ سرکارﷺ کو رب نے یہ علو بخشا ہے
”تاج والوں کا یہاں خاک پہ ماتھا دیکھا“
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قافلہ شہرِ نبیﷺ کوئی جو جاتا دیکھا
دل مِرا ساتھ میں جانے کو مچلتا دیکھا
میرے آقاﷺ کے لگے عرشِ بریں پر نعلین
ایسا تو عرش بریں نے کہاں تلوا دیکھا
درِ سرکارﷺ کو رب نے یہ علو بخشا ہے
”تاج والوں کا یہاں خاک پہ ماتھا دیکھا“
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کون طیبہ سے انحراف کرے
توبہ، توبہ، خدا معاف کرے
چاند کو چار چاند لگ جائیں
انؐ کے چہرے کا گر طواف کرے
پھر ثنائے نبیﷺ کی رم جھم ہو
دل تخیل میں اعتکاف کرے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
"اللہ نے یوں شان بڑھائی تِرےؐ در کی"
جبریلؑ بھی کرتا ہے گدائی تِرے در کی
دی اس کو سلامی بھی ملائک نے ادب سے
کی جس نے شہاﷺ ناصیہ سائی تِرے در کی
عشاق کے اشکوں کی روانی کا نہ پوچھو
زائر نے جو روداد سنائی تِرے در کی
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
یہ تصور ہی میری روح میں سمایا جائے
مجھ کو اک بار مدینے میں بلایا جائے
بند آنکھوں سے میں پیارے کا روضہ دیکھوں
ہاتھ رکھ دیں مِری آنکھوں پہ کہ نیند آ جائے
جن مناظر کو ترستی ہیں مِری آنکھیں
ہر وہ منظر مجھے پھر سے دکھایا جائے
قلم موتی جنے ایسی کرامات جانتا ہوں
میں شاعر ہوں محبت کا محبت جانتا ہوں
زباں بے باک ہے ساری کہانی کھول دے گی
میرے سر کو قلم کر دو، حقیقت جانتا ہوں
میری تو خاک بھی احساس سے سینچی گئی ہے
مجھے پہچان رشتوں کی مت بتا، میں جانتا ہوں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
کبھی جو طشتِ زر لا کر بھی رکھ دیں میری خدمت میں
چھڑا سکتے نہیں مجھ سے، مدینہ ایسی قیمت میں
نبیﷺ کے عشق میں ہر پل دہکتا میرا سینہ ہو
بسر ہو زندگی ساری مؐری عشقِ رسالتﷺ میں
کروں روضے کو میں سجدہ، یہ دل میں بات آتی ہے
عمل اس پر صحابہؓ کا نہ رخصت ہے شریعت میں
تشنگی اور بڑھائیں گے، چلے جائیں گے
آپ آئے بھی تو آئیں گے، چلے جائیں گے
مہتمم ہم نے سرِ بزم کہاں رہنا ہے
جب وہ اٹھ کر چلے جائیں گے، چلے جائیں گے
وقت کم ہے کہ غمِ زیست پسِ پشت کیے
جشن غم خوار منائیں گے، چلے جائیں گے