Showing posts with label شبیر شاہد. Show all posts
Showing posts with label شبیر شاہد. Show all posts

Tuesday, 20 June 2023

قافلہ شہر نبی کوئی جو جاتا دیکھا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


قافلہ شہرِ نبیﷺ کوئی جو جاتا دیکھا

دل مِرا ساتھ میں جانے کو مچلتا دیکھا

میرے آقاﷺ کے لگے عرشِ بریں پر نعلین

ایسا تو عرش بریں نے کہاں تلوا دیکھا

درِ سرکارﷺ کو رب نے یہ علو بخشا ہے

”تاج والوں کا یہاں خاک پہ ماتھا دیکھا“

Saturday, 24 September 2022

کون طیبہ سے انحراف کرے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کون طیبہ سے انحراف کرے

توبہ، توبہ، خدا معاف کرے

چاند کو چار چاند لگ جائیں

انؐ کے چہرے کا گر طواف کرے

پھر ثنائے نبیﷺ کی رم جھم ہو

دل تخیل میں اعتکاف کرے

Monday, 12 September 2022

جبریل بھی کرتا ہے گدائی ترے در کی

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


"اللہ نے یوں شان بڑھائی تِرےؐ در کی"

جبریلؑ بھی کرتا ہے گدائی تِرے در کی

دی اس کو سلامی بھی ملائک نے ادب سے

کی جس نے شہاﷺ ناصیہ سائی تِرے در کی

عشاق کے اشکوں کی روانی کا نہ پوچھو

زائر نے جو روداد سنائی تِرے در کی

Sunday, 11 September 2022

یہ تصور ہی میری روح میں سمایا جائے

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


یہ تصور ہی میری روح میں سمایا جائے

مجھ کو اک بار مدینے میں بلایا جائے

بند آنکھوں سے میں پیارے کا روضہ دیکھوں

ہاتھ رکھ دیں مِری آنکھوں پہ کہ نیند آ جائے

جن مناظر کو ترستی ہیں مِری آنکھیں

ہر وہ منظر مجھے پھر سے دکھایا جائے

قلم موتی جنے ایسی کرامات جانتا ہوں

 قلم موتی جنے ایسی کرامات جانتا ہوں

میں شاعر ہوں محبت کا محبت جانتا ہوں

زباں بے باک ہے ساری کہانی کھول دے گی

میرے سر کو قلم کر دو، حقیقت جانتا ہوں

میری تو خاک بھی احساس سے سینچی گئی ہے

مجھے پہچان رشتوں کی مت بتا، میں جانتا ہوں

Thursday, 21 July 2022

کبھی جو طشت زر لا کر بھی رکھ دیں میری خدمت میں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


کبھی جو طشتِ زر لا کر بھی رکھ دیں میری خدمت میں

چھڑا سکتے نہیں مجھ سے، مدینہ ایسی قیمت میں

نبیﷺ کے عشق میں ہر پل دہکتا میرا سینہ ہو

بسر ہو زندگی ساری مؐری عشقِ رسالتﷺ میں

کروں روضے کو میں سجدہ، یہ دل میں بات آتی ہے

عمل اس پر صحابہؓ کا نہ رخصت ہے شریعت میں

Sunday, 6 March 2022

تشنگی اور بڑھائیں گے چلے جائیں گے

تشنگی اور بڑھائیں گے، چلے جائیں گے 

آپ آئے بھی تو آئیں گے، چلے جائیں گے

مہتمم ہم نے سرِ بزم کہاں رہنا ہے

جب وہ اٹھ کر چلے جائیں گے، چلے جائیں گے

وقت کم ہے کہ غمِ زیست پسِ پشت کیے

جشن غم خوار منائیں گے، چلے جائیں گے