لفظ جو بولنا تول کر بولنا
فائدے مند ہے مختصر بولنا
تم بھی بن جاؤ لیڈر کسی قوم کے
چاہتے تم ہو زیادہ اگر بولنا
وہ صدائے انا الحق قلندر کی تھی
سب کے بس میں کہاں دار پر بولنا
لفظ جو بولنا تول کر بولنا
فائدے مند ہے مختصر بولنا
تم بھی بن جاؤ لیڈر کسی قوم کے
چاہتے تم ہو زیادہ اگر بولنا
وہ صدائے انا الحق قلندر کی تھی
سب کے بس میں کہاں دار پر بولنا
مکاں پر اپنے لکھوائیں محبت
محبت کا بدل پائیں محبت
ہمیشہ ہوتی ہے نفرت کی بارش
کبھی بادل یہ برسائیں محبت
کوئی بھی حال ہو بچوں سے اپنے
کیا کرتی ہیں بس مائیں محبت
یقیں کے دوش پہ ہے اعتبار کی سرحد
پتہ نہیں، ہے کہاں انتظار کی سرحد
عقیدتوں کو جہاں سر کے بل ہی چلنا ہے
دکھائی دینے لگی شہرِ یار کی سرحد
یہ سُوکھتے ہوئے پتّے گواہی دیتے ہیں
خزاں پہ ختم ہوئی ہے بہار کی سرحد
مسئلہ ہے یہ تو سارا عشق کی جاگیر کا
میری جانب ہی نشانہ ہے تِرے ہر تیر کا
اس قدر کیوں ناسمجھ ہم کو سمجھ لیتے ہیں آپ
پیڑ گولر کا لگایا،۔ کہتے ہیں انجیر کا
جانے کیا کیا سوچ کے میدان میں اترا ہے تُو
پانی تو اترا ہوا ہے تیری اس شمشیر کا
احساس کی دولت کا دروازہ کھلا رکھنا
انسان کی عظمت کا دروازہ کھلا رکھنا
راہوں میں محبت کی تقاضا ہے وفا کا
ایفائے محبت کا دروازہ کھلا رکھنا
جو لوگ یہ نفرت کی دیواریں کھڑی کریں
تم دل میں اخوت کا دروازہ کھلا رکھنا