Showing posts with label طالب ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label طالب ہاشمی. Show all posts

Monday, 26 September 2022

لفظ جو بولنا تول کر بولنا

 لفظ جو بولنا تول کر بولنا

فائدے مند ہے مختصر بولنا

تم بھی بن جاؤ لیڈر کسی قوم کے

چاہتے تم ہو زیادہ اگر بولنا

وہ صدائے انا الحق قلندر کی تھی

سب کے بس میں کہاں دار پر بولنا

Friday, 16 September 2022

مکاں پر اپنے لکھوائیں محبت

 مکاں پر اپنے لکھوائیں محبت

محبت کا بدل پائیں محبت

ہمیشہ ہوتی ہے نفرت کی بارش

کبھی بادل یہ برسائیں محبت

کوئی بھی حال ہو بچوں سے اپنے

کیا کرتی ہیں بس مائیں محبت

Monday, 12 September 2022

یقیں کے دوش پہ ہے اعتبار کی سرحد

 یقیں کے دوش پہ ہے اعتبار کی سرحد

پتہ نہیں، ہے کہاں انتظار کی سرحد

عقیدتوں کو جہاں سر کے بل ہی چلنا ہے

دکھائی دینے لگی شہرِ یار کی سرحد

یہ سُوکھتے ہوئے پتّے گواہی دیتے ہیں

خزاں پہ ختم ہوئی ہے بہار کی سرحد

Sunday, 11 September 2022

مسئلہ ہے یہ تو سارا عشق کی جاگیر کا

 مسئلہ ہے یہ تو سارا عشق کی جاگیر کا

میری جانب ہی نشانہ ہے تِرے ہر تیر کا

اس قدر کیوں ناسمجھ ہم کو سمجھ لیتے ہیں آپ

پیڑ گولر کا لگایا،۔ کہتے ہیں انجیر کا

جانے کیا کیا سوچ کے میدان میں اترا ہے تُو

پانی تو اترا ہوا ہے تیری اس شمشیر کا

Tuesday, 9 February 2021

احساس کی دولت کا دروازہ کھلا رکھنا

 احساس کی دولت کا دروازہ کھلا رکھنا

انسان کی عظمت کا دروازہ کھلا رکھنا

راہوں میں محبت کی تقاضا ہے وفا کا

ایفائے محبت کا دروازہ کھلا رکھنا

جو لوگ یہ نفرت کی دیواریں کھڑی کریں

تم دل میں اخوت کا دروازہ کھلا رکھنا