یقیں کے دوش پہ ہے اعتبار کی سرحد
پتہ نہیں، ہے کہاں انتظار کی سرحد
عقیدتوں کو جہاں سر کے بل ہی چلنا ہے
دکھائی دینے لگی شہرِ یار کی سرحد
یہ سُوکھتے ہوئے پتّے گواہی دیتے ہیں
خزاں پہ ختم ہوئی ہے بہار کی سرحد
امیرِ ملک ہے دنیا کا بادشاہ نہیں
کہیں تو ہو گی تِرے اقتدار کی سرحد
تِرے اشاروں پہ چلتا ہے دو جہاں کا نظام
نہیں ہے کوئی تِرے اختیار کی سرحد
بڑھو گے جتنا آگے بھی پچھڑتے جاؤ گے
کبھی نہ آئے گی طالب! اُدھار کی سرحد
طالب ہاشمی
No comments:
Post a Comment