لڑکھڑاتا ہوں جھومتا ہوں میں
جب تِرا نام چومتا ہوں میں
تم سمجھتے ہو اک گلی جس کو
میری جنت ہے گھومتا ہوں میں
ایک کھڑکی کھلی ہی رہتی ہے
کوئی روتا ہے جھانکتا ہوں میں
لڑکھڑاتا ہوں جھومتا ہوں میں
جب تِرا نام چومتا ہوں میں
تم سمجھتے ہو اک گلی جس کو
میری جنت ہے گھومتا ہوں میں
ایک کھڑکی کھلی ہی رہتی ہے
کوئی روتا ہے جھانکتا ہوں میں
ایک راجہ تھا ایک رانی تھی
لوگ کہتے ہیں یہ کہانی تھی
اک جدائی کی بات اس نے بس
خیر، کوئی تو بات مانی تھی
یار پھر اس کا ذکر لے بیٹھا
چھوڑ اب جانے دے وہ جانی تھی
آپ چہرہ شناس ہیں کیا ہُوا
پھول چہرے اداس ہیں کیا ہوا
مت کریں ناز ان سے قُربت کا
چاند تارے بھی پاس ہیں کیا ہوا
خاک پر میرے ساتھ بیٹھیں آپ
اس میں یہ عام خاص کیا ہوا
کیا مسئلہ ہے آپ شکایت تو کیجیۓ
میرے ہیں آپ زیب محبت تو کیجیۓ
افسوس آپ کرتے نہیں کر بھی سکتے ہیں
بس اس کو بھول جائیں گے ہمت تو کیجیۓ
میں جانتی ہوں یہ کہ امانت ہوں آپ کی
چُھو کر وجود میرا خیانت تو کیجیۓ
ایک راجہ تھا ایک رانی تھی
لوگ کہتے ہیں یہ کہانی تھی
اک جدائی کی بات اس نے بس
خیر، کوئی تو بات مانی تھی
یار پھر اس کا ذکر لے بیٹھا
چھوڑ اب جانے دے وہ جانی تھی
اک عجب شام سے بیزاری ہے
آ گئے غم، غموں سے یاری ہے
لوگ تو ہار کے روتے ہیں کھیل
زندگی ہنس کے میں نے ہاری ہے
دل نہ چاہے یونہی ہنس کے ملنا
زیب کرتا تُو بھی فنکاری ہے
وہ تو لوٹا نہیں، گیا جب کا
میرے دل سے نکل گیا کب کا
اس کے بِن دن گزار لیتا ہوں
مسئلہ بن گیا مگر شب کا
اس پہ اتنا یقیں کِیا تھا کہ
وہ گیا تو یقیں گیا سب کا
ادھر ہے کون جو اچھا بُرا نہیں کرتا
خفا ہو جاؤ منانے میں کیا نہیں کرتا
گمان کیسا ہے غازی کے در کا نوکر ہوں
لگا کے دیکھ لو دنگل وفا نہیں کرتا
لکھا ہوا ہے یہ تقدیر کا کہوں کیسے
بُرا کسی کا کبھی تو خدا نہیں کرتا
یہ زخم کہیں اس کی عنایت ہے، نہیں تو
خاموش ہو کیا کوئی شکایت ہے، نہیں تو
ہر وقت ذکر اس کا ہی رہتا ہے زباں پر
کیا اس میں تِری کوئی عبادت ہے، نہیں تو
آباد یہ صحرا کو محبت سے کرو گے؟؟
آ جاؤں ترے دل میں اجازت ہے، نہیں تو