Showing posts with label زیب اوریا. Show all posts
Showing posts with label زیب اوریا. Show all posts

Sunday, 6 February 2022

لڑکھڑاتا ہوں جھومتا ہوں میں

 لڑکھڑاتا ہوں جھومتا ہوں میں

جب تِرا نام چومتا ہوں میں

تم سمجھتے ہو اک گلی جس کو

میری جنت ہے گھومتا ہوں میں

ایک کھڑکی کھلی ہی رہتی ہے

کوئی روتا ہے جھانکتا ہوں میں

Monday, 18 October 2021

ایک راجہ تھا ایک رانی تھی

 ایک راجہ تھا ایک رانی تھی

لوگ کہتے ہیں یہ کہانی تھی

اک جدائی کی بات اس نے بس

خیر، کوئی تو بات مانی تھی

یار پھر اس کا ذکر لے بیٹھا

چھوڑ اب جانے دے وہ جانی تھی

Saturday, 16 October 2021

آپ چہرہ شناس ہیں کیا ہوا

 آپ چہرہ شناس ہیں کیا ہُوا

پھول چہرے اداس ہیں کیا ہوا

مت کریں ناز ان سے قُربت کا

چاند تارے بھی پاس ہیں کیا ہوا

خاک پر میرے ساتھ بیٹھیں آپ

اس میں یہ عام خاص کیا ہوا

Friday, 15 October 2021

کیا مسئلہ ہے آپ شکایت تو کیجیے

 کیا مسئلہ ہے آپ شکایت تو کیجیۓ

میرے ہیں آپ زیب محبت تو کیجیۓ

افسوس آپ کرتے نہیں کر بھی سکتے ہیں

بس اس کو بھول جائیں گے ہمت تو کیجیۓ

میں جانتی ہوں یہ کہ امانت ہوں آپ کی

چُھو کر وجود میرا خیانت تو کیجیۓ

Thursday, 14 October 2021

ایک راجہ تھا ایک رانی تھی

 ایک راجہ تھا ایک رانی تھی

لوگ کہتے ہیں یہ کہانی تھی

اک جدائی کی بات اس نے بس

خیر، کوئی تو بات مانی تھی

یار پھر اس کا ذکر لے بیٹھا

چھوڑ اب جانے دے وہ جانی تھی

Wednesday, 13 October 2021

اک عجب شام سے بیزاری ہے

 اک عجب شام سے بیزاری ہے

آ گئے غم، غموں سے یاری ہے

لوگ تو ہار کے روتے ہیں کھیل

زندگی ہنس کے میں نے ہاری ہے

دل نہ چاہے یونہی ہنس کے ملنا

زیب کرتا تُو بھی فنکاری ہے

Tuesday, 12 October 2021

وہ تو لوٹا نہیں گیا جب کا

 وہ تو لوٹا نہیں، گیا جب کا

میرے دل سے نکل گیا کب کا

اس کے بِن دن گزار لیتا ہوں

مسئلہ بن گیا مگر شب کا

اس پہ اتنا یقیں کِیا تھا کہ

وہ گیا تو یقیں گیا سب کا

Saturday, 1 May 2021

ادھر ہے کون جو اچھا برا نہیں کرتا

 ادھر ہے کون جو اچھا بُرا نہیں کرتا

خفا ہو جاؤ منانے میں کیا نہیں کرتا

گمان کیسا ہے غازی کے در کا نوکر ہوں

لگا کے دیکھ لو دنگل وفا نہیں کرتا

لکھا ہوا ہے یہ تقدیر کا کہوں کیسے

بُرا کسی کا کبھی تو خدا نہیں کرتا

Friday, 30 April 2021

یہ زخم کہیں اس کی عنایت ہے نہیں تو

 یہ زخم کہیں اس کی عنایت ہے، نہیں تو

خاموش ہو کیا کوئی شکایت ہے، نہیں تو

ہر وقت ذکر اس کا ہی رہتا ہے زباں پر

کیا اس میں تِری کوئی عبادت ہے، نہیں تو

آباد یہ صحرا کو محبت سے کرو گے؟؟

آ جاؤں ترے دل میں اجازت ہے، نہیں تو