Saturday, 16 October 2021

آپ چہرہ شناس ہیں کیا ہوا

 آپ چہرہ شناس ہیں کیا ہُوا

پھول چہرے اداس ہیں کیا ہوا

مت کریں ناز ان سے قُربت کا

چاند تارے بھی پاس ہیں کیا ہوا

خاک پر میرے ساتھ بیٹھیں آپ

اس میں یہ عام خاص کیا ہوا

عشق روحانی ہے جو کہتے تھے

آج وہ بے لباس ہیں کیا ہوا

چھوڑ دیں گے خوشی سے جینا ہم

جینے کی آپ آس ہیں کیا ہوا


زیب اوریا

No comments:

Post a Comment