جانے کیوں فقر کے رستے مرے گھر تک آئے
ان کو جانا تو وہ میزان گہر تک آئے
کوئے دمساز سے نکلے تو نگوں سر نہ ہوئے
واں سے لوٹے تھے جو پتھر، مرے گھر تک آئے
کتنے پتوں نے ہواؤں سے لڑی جنگِ ہنر
کتنی مشکل سے ثمر ان کے شجر تک آئے
جانے کیوں فقر کے رستے مرے گھر تک آئے
ان کو جانا تو وہ میزان گہر تک آئے
کوئے دمساز سے نکلے تو نگوں سر نہ ہوئے
واں سے لوٹے تھے جو پتھر، مرے گھر تک آئے
کتنے پتوں نے ہواؤں سے لڑی جنگِ ہنر
کتنی مشکل سے ثمر ان کے شجر تک آئے
سیاست میں عجب یہ فیصلہ نادان کر لیتے ہیں
چمن کو رہن رکھ کر کانچ کا گلدان لیتے ہیں
قدم پڑتے ہی چوکھٹ پر لکھی جاتی ہیں تحریریں
اسی سے آنے والے کا ارادہ جان لیتے ہیں
نظر جب فرشِ راہِ یار ہوتی ہے تو دل والے
قدِ موزوں کو اس کی چال سے پہچان لیتے ہیں
گھر جو لوٹے تو ملے غیر کے سامانوں میں
پھول کچھ چھوڑ کے آئے تھے جو گلدانوں میں
ہم پرندوں کی طرح دائمی بنجارے ہیں
شہر چُھوٹے تو مقرر ہوئے ویرانوں میں
وہ بھی ہجرت کے تکلف سے بری ہو نہ سکے
آئے کچھ لوگ جو کعبے سے صنم خانوں میں
مِرے وجود پہ پتھراؤ ہونے والا ہے
یہ شہر اب کسی ملبے میں سونے والا ہے
خموش رات ہے بچوں نے کی یہ سرگوشی
چلو اُدھر کو جدھر کچھ نہ ہونے والا ہے
بسر کریں گے کرائے کے شامیانے میں
مِرا مکان، مِری لاش بونے والا ہے
فصلِ گل آئی ہے زنجیر ہلانے کے لیے
گر پڑی پاؤں پھر ہم کو منانے کے لیے
تم کو تجدیدِ ملاقات پہ اصرار رہا
اور برے بن گئے ہم سارے زمانے کے لیے
ہم کو کرنا ہی پڑا ترکِ تعلق تم سے
ان کو ہنسے کے لیے تم کو رلانے کے لیے
اے شبِ ہجر تِری راہ میں ہم کیا نہ بنے
صبح کا چہرہ بنے، شام کا افسانہ بنے
زندگی اتنی زیاں کار ہے، معلوم نہ تھا
سیکڑوں شہرِ تمنا تھے جو ویرانہ بنے
ایک تم ہو کہ مٹاتے رہے تاریخِ جنوں
ایک ہم ہیں کہ ہر اک دور میں دیوانہ بنے
بیچ میں ٹوٹ گیا خواب ادھورا مجھ سے
زندگی پوچھ رہی ہے مِرا قصہ مجھ سے
میں نہیں تھا تو جہانِ دِگراں تھی دنیا
اور میں ہوں تو پریشان ہے دنیا مجھ سے
ایک میں ہوں کہ تجسم کسی نور کے ہوں
ایک صورت ہے کہ کرتی رہی پردا مجھ سے
سرکش ہوا میں عطر یہ کس کے چمن کا ہے
اترا ہوا خمار اسی کے بدن کا ہے
تہذیب اختلاط سے معمور ہو گئے
کچھ بھی ذرا خیال نہ اب اس کو تن کا ہے
اس کی تلاش میں ہی لگائیں برہنہ رنگ
آب رواں تراشا ہوا کس بدن کا ہے
بے آب و بے گیاہ ہوا اس کو چھوڑ کر
کیسے بجھاؤں پیاس میں پتھر نچوڑ کر
وہ بھی عجیب شام تھی جن ساعتوں کے بیچ
میں بھی بکھر بکھر گیا شیشے کو توڑ کر
میں گھر گیا ہوں رنگِ سفید و سیاہ میں
وہ خوش ہے زعفران کی اک شاخ توڑ کر
اک اذیت ناک منظر عمر بھر رہنے دیا
گھر جلایا اس نے سب کا میرا گھر رہنے دیا
بادبانِ یاد کی تازہ ہوا آنے تو دو
ہم نے دریا میں بھی اک پانی کا گھر رہنے دیا
لوٹ کر آئیں گے اک دن اس کی پُرشش کیلئے
اس کے دروازے پہ سامانِ سفر رہنے دیا