Showing posts with label شکیب ایاز. Show all posts
Showing posts with label شکیب ایاز. Show all posts

Tuesday, 27 December 2022

جانے کیوں فقر کے رستے مرے گھر تک آئے

 جانے کیوں فقر کے رستے مرے گھر تک آئے

ان کو جانا تو وہ میزان گہر تک آئے

کوئے دمساز سے نکلے تو نگوں سر نہ ہوئے

واں سے لوٹے تھے جو پتھر، مرے گھر تک آئے

کتنے پتوں نے ہواؤں سے لڑی جنگِ ہنر

کتنی مشکل سے ثمر ان کے شجر تک آئے

Monday, 7 February 2022

سیاست میں عجب یہ فیصلہ نادان کر لیتے ہیں

 سیاست میں عجب یہ فیصلہ نادان کر لیتے ہیں

چمن کو رہن رکھ کر کانچ کا گلدان لیتے ہیں

قدم پڑتے ہی چوکھٹ پر لکھی جاتی ہیں تحریریں

اسی سے آنے والے کا ارادہ جان لیتے ہیں

نظر جب فرشِ راہِ یار ہوتی ہے تو دل والے

قدِ موزوں کو اس کی چال سے پہچان لیتے ہیں

Wednesday, 15 December 2021

گھر جو لوٹے تو ملے غیر کے سامانوں میں

 گھر جو لوٹے تو ملے غیر کے سامانوں میں

پھول کچھ چھوڑ کے آئے تھے جو گلدانوں میں 

ہم پرندوں کی طرح دائمی بنجارے ہیں

شہر چُھوٹے تو مقرر ہوئے ویرانوں میں

وہ بھی ہجرت کے تکلف سے بری ہو نہ سکے 

آئے کچھ لوگ جو کعبے سے صنم خانوں میں

Monday, 22 November 2021

مرے وجود پہ پتھراؤ ہونے والا ہے

 مِرے وجود پہ پتھراؤ ہونے والا ہے

یہ شہر اب کسی ملبے میں سونے والا ہے

خموش رات ہے بچوں نے کی یہ سرگوشی

چلو اُدھر کو جدھر کچھ نہ ہونے والا ہے

بسر کریں گے کرائے کے شامیانے میں

مِرا مکان، مِری لاش بونے والا ہے

Monday, 15 November 2021

فصل گل آئی ہے زنجیر ہلانے کے لیے

 فصلِ گل آئی ہے زنجیر ہلانے کے لیے

گر پڑی پاؤں پھر ہم کو منانے کے لیے

تم کو تجدیدِ ملاقات پہ اصرار رہا

اور برے بن گئے ہم سارے زمانے کے لیے

ہم کو کرنا ہی پڑا ترکِ تعلق تم سے

ان کو ہنسے کے لیے تم کو رلانے کے لیے

Thursday, 11 November 2021

اے شب ہجر تری راہ میں ہم کیا نہ بنے

 اے شبِ ہجر تِری راہ میں ہم کیا نہ بنے

صبح کا چہرہ بنے، شام کا افسانہ بنے

زندگی اتنی زیاں کار ہے، معلوم نہ تھا

سیکڑوں شہرِ تمنا تھے جو ویرانہ بنے

ایک تم ہو کہ مٹاتے رہے تاریخِ جنوں

ایک ہم ہیں کہ ہر اک دور میں دیوانہ بنے

بیچ میں ٹوٹ گیا خواب ادھورا مجھ سے

 بیچ میں ٹوٹ گیا خواب ادھورا مجھ سے

زندگی پوچھ رہی ہے مِرا قصہ مجھ سے

میں نہیں تھا تو جہانِ دِگراں تھی دنیا

اور میں ہوں تو پریشان ہے دنیا مجھ سے

ایک میں ہوں کہ تجسم کسی نور کے ہوں

ایک صورت ہے کہ کرتی رہی پردا مجھ سے

Wednesday, 10 November 2021

سرکش ہوا میں عطر یہ کس کے چمن کا ہے

 سرکش ہوا میں عطر یہ کس کے چمن کا ہے

اترا ہوا خمار اسی کے بدن کا ہے

تہذیب اختلاط سے معمور ہو گئے

کچھ بھی ذرا خیال نہ اب اس کو تن کا ہے

اس کی تلاش میں ہی لگائیں برہنہ رنگ

آب رواں تراشا ہوا کس بدن کا ہے

Tuesday, 9 November 2021

بے آب و بے گیاہ ہوا اس کو چھوڑ کر

 بے آب و بے گیاہ ہوا اس کو چھوڑ کر

کیسے بجھاؤں پیاس میں پتھر نچوڑ کر

وہ بھی عجیب شام تھی جن ساعتوں کے بیچ

میں بھی بکھر بکھر گیا شیشے کو توڑ کر

میں گھر گیا ہوں رنگِ سفید و سیاہ میں 

وہ خوش ہے زعفران کی اک شاخ توڑ کر

Monday, 8 November 2021

اک اذیت ناک منظر عمر بھر رہنے دیا

 اک اذیت ناک منظر عمر بھر رہنے دیا

گھر جلایا اس نے سب کا میرا گھر رہنے دیا

بادبانِ یاد کی تازہ ہوا آنے تو دو

ہم نے دریا میں بھی اک پانی کا گھر رہنے دیا

لوٹ کر آئیں گے اک دن اس کی پُرشش کیلئے

اس کے دروازے پہ سامانِ سفر رہنے دیا