فصلِ گل آئی ہے زنجیر ہلانے کے لیے
گر پڑی پاؤں پھر ہم کو منانے کے لیے
تم کو تجدیدِ ملاقات پہ اصرار رہا
اور برے بن گئے ہم سارے زمانے کے لیے
ہم کو کرنا ہی پڑا ترکِ تعلق تم سے
ان کو ہنسے کے لیے تم کو رلانے کے لیے
میری زنجیر کے بل آج نہ کل ٹوٹیں گے
آپ تیار رہیں ناز اٹھانے کے لیے
ہر نظر بار سنبھالے تِری آرائش کا
یہ تو ممکن ہی نہیں آئینہ خانے کے لیے
قریۂ شوق میں رنگوں کی پھواریں برسیں
آپ خوشبو کی طرح آتے ہیں جانے کے لیے
عہدِ گمنام کی تاریخ ادب تو لکھیۓ
میری خاطر نہ سہی اگلے زمانے کے لیے
شکیب ایاز
No comments:
Post a Comment