زبان
مجھے
صرف نفرت کی زبان آتی ہے
نفرت کا لُغت نویس بن کر
میں اپنی زبان بُھول چُکا ہوں
محبت میری ماں بولی تھی
مگر، زندہ رہنے کے لیے
مجھے نفرت کی زبان سیکھنی پڑی
میں ایک لڑکی کو
تلاش کر رہا ہوں
وہ مجھے
محبت کی متروک زبان سکھا دے گی
ایک لڑکی
اپنی ماں بولی کبھی نہیں بُھولتی
مصطفیٰ ارباب
No comments:
Post a Comment