Showing posts with label مبین مرزا. Show all posts
Showing posts with label مبین مرزا. Show all posts

Sunday, 20 November 2022

یہی وقت تھا ہاں یہی وقت تھا

 یہی وقت تھا

ہاں یہی وقت تھا

بلکہ تاریخ بھی تو یہی تھی

جب اِک مہرباں ہاتھ نے

جانے کیا سوچ کر بس اچانک

مِری روح کو تھپتھپایا

Thursday, 19 August 2021

تری بزم سے جو اٹھ کر ترے جاں نثار آئے

 تِری بزم سے جو اٹھ کر تِرے جاں نثار آئے

دل و جاں کا سب اثاثہ تِرے در پہ وار آئے

تِرا عشق بن گیا ہے مِری زیست کی مسافت

کہ میں اب جہاں بھی جاؤں تِری رہگزار آئے

تِری یاد آج ایسے دل مبتلا میں آئی

سرِ دشت شام جیسے شب نو بہار آئے

Saturday, 14 August 2021

اک خواب میں آنکھیں ملتے ہوئے

 اس خواب میں


اک خواب میں آنکھیں ملتے ہوئے

اک آس کی چھایا ڈھلتے ہوئے

اک خوف کے من میں پلتے ہوئے

اب موڑ یہ کیسا آیا ہے

سنسار پہ رنگ سا چھایا ہے

آکاش کے رم جھم تاروں نے

تیری ہنستی ہوئی آنکھوں میں

 پیاس


تیری ہنستی ہوئی آنکھوں میں

رنگ بہار کے رقصاں دیکھے

تیری زلفوں کی لہروں میں

گھور اندھیرے حیراں دیکھے

ہر محراب میں تیرے بدن کی

سو سو دِیپ فروزاں دیکھے

Friday, 13 August 2021

خواہشوں کی منزل پر حسرتوں کے رستے میں

 احساس


خواہشوں کی منزل پر

حسرتوں کے رستے میں

دلبری کے پربت پر

وحشتوں کی وادی میں

بے خودی کے صحرا میں

آگہی کے دریا میں

یہ زعم محبت کیا کیجے ہم اہل ہنر بے کار ہوئے

 اہلِ ہنر بے کار ہوئے


اک عمر کی کاوش سے ہم نے

جو کارِ تمنا سیکھا تھا

دنیا کے نئے بازار میں اب

کچھ مانگ نہیں باقی اس کی

یہ زعمِ محبت کیا کیجے

ہم اہلِ ہنر بے کار ہوئے