یہی وقت تھا
ہاں یہی وقت تھا
بلکہ تاریخ بھی تو یہی تھی
جب اِک مہرباں ہاتھ نے
جانے کیا سوچ کر بس اچانک
مِری روح کو تھپتھپایا
یہی وقت تھا
ہاں یہی وقت تھا
بلکہ تاریخ بھی تو یہی تھی
جب اِک مہرباں ہاتھ نے
جانے کیا سوچ کر بس اچانک
مِری روح کو تھپتھپایا
تِری بزم سے جو اٹھ کر تِرے جاں نثار آئے
دل و جاں کا سب اثاثہ تِرے در پہ وار آئے
تِرا عشق بن گیا ہے مِری زیست کی مسافت
کہ میں اب جہاں بھی جاؤں تِری رہگزار آئے
تِری یاد آج ایسے دل مبتلا میں آئی
سرِ دشت شام جیسے شب نو بہار آئے
اس خواب میں
اک خواب میں آنکھیں ملتے ہوئے
اک آس کی چھایا ڈھلتے ہوئے
اک خوف کے من میں پلتے ہوئے
اب موڑ یہ کیسا آیا ہے
سنسار پہ رنگ سا چھایا ہے
آکاش کے رم جھم تاروں نے
پیاس
تیری ہنستی ہوئی آنکھوں میں
رنگ بہار کے رقصاں دیکھے
تیری زلفوں کی لہروں میں
گھور اندھیرے حیراں دیکھے
ہر محراب میں تیرے بدن کی
سو سو دِیپ فروزاں دیکھے
احساس
خواہشوں کی منزل پر
حسرتوں کے رستے میں
دلبری کے پربت پر
وحشتوں کی وادی میں
بے خودی کے صحرا میں
آگہی کے دریا میں
اہلِ ہنر بے کار ہوئے
اک عمر کی کاوش سے ہم نے
جو کارِ تمنا سیکھا تھا
دنیا کے نئے بازار میں اب
کچھ مانگ نہیں باقی اس کی
یہ زعمِ محبت کیا کیجے
ہم اہلِ ہنر بے کار ہوئے