شہر بھر کے آئینوں پر خاک ڈالی جائے گی
آج پھر سچائی کی صورت چھپا لی جائے گی
اس کی آنکھوں میں لپکتی آگ ہے بے حد شدید
سوچتا ہوں یہ قیامت کیسے ٹالی جائے گی
مشتعل کر دے گا اس کو اک ذرا سا احتجاج
مجھ پہ کیا گزری ہے اس پر خاک ڈالی جائے گی
شہر بھر کے آئینوں پر خاک ڈالی جائے گی
آج پھر سچائی کی صورت چھپا لی جائے گی
اس کی آنکھوں میں لپکتی آگ ہے بے حد شدید
سوچتا ہوں یہ قیامت کیسے ٹالی جائے گی
مشتعل کر دے گا اس کو اک ذرا سا احتجاج
مجھ پہ کیا گزری ہے اس پر خاک ڈالی جائے گی
آرزوؤں کی رُتیں بدلے زمانے ہو گئے
زندگی کے ساتھ سب رشتے پرانے ہو گئے
آبلہ پائی نے ایسی شوخیاں کیں ریت سے
وقت کے تپتے ہوئے صحرا سہانے ہو گئے
چند لمحے کو تو خوابوں میں بھی آ کر جھانک لے
زندگی! تجھ سے ملے کتنے زمانے ہو گئے
لمحہ لمحہ تجربہ ہونے لگا
میں بھی اندر سے نیا ہونے لگا
شدت غم نے حدیں سب توڑ دیں
ضبط کا منظر ہوا ہونے لگا
پھر نئے ارمان شاخوں کو ملے
پتہ پتہ پھر ہرا ہونے لگا
سفینہ موج بلا کے لیے اشارا تھا
نہ پھر ہوا تھی موافق نہ پھر کنارا تھا
ہم اپنے جلتے ہوئے گھر کو کیسے رو لیتے
ہمارے چاروں طرف ایک ہی نظارا تھا
یہ واقعہ جو سنیں گے تو لوگ ہنس دیں گے
ہمیں ہماری ہی پرچھائیوں نے مارا تھا
اس سے پہلے کہ سر اتر جائیں
ہم اداسی میں رنگ بھر جائیں
زخم مُرجھا رہے ہیں رشتوں کے
اب اٹھیں دوستوں کے گھر جائیں
غم کا سورج تو ڈوبتا ہی نہیں
دھوپ ہی دھوپ ہے کدھر جائیں