Showing posts with label سرفراز دانش. Show all posts
Showing posts with label سرفراز دانش. Show all posts

Sunday, 21 February 2021

شہر بھر کے آئینوں پر خاک ڈالی جائے گی

 شہر بھر کے آئینوں پر خاک ڈالی جائے گی

آج پھر سچائی کی صورت چھپا لی جائے گی

اس کی آنکھوں میں لپکتی آگ ہے بے حد شدید

سوچتا ہوں یہ قیامت کیسے ٹالی جائے گی

مشتعل کر دے گا اس کو اک ذرا سا احتجاج

مجھ پہ کیا گزری ہے اس پر خاک ڈالی جائے گی

Friday, 19 February 2021

آرزوؤں کی رتیں بدلے زمانے ہو گئے

 آرزوؤں کی رُتیں بدلے زمانے ہو گئے

زندگی کے ساتھ سب رشتے پرانے ہو گئے

آبلہ پائی نے ایسی شوخیاں کیں ریت سے

وقت کے تپتے ہوئے صحرا سہانے ہو گئے

چند لمحے کو تو خوابوں میں بھی آ کر جھانک لے

زندگی! تجھ سے ملے کتنے زمانے ہو گئے

Thursday, 4 February 2021

لمحہ لمحہ تجربہ ہونے لگا

 لمحہ لمحہ تجربہ ہونے لگا

میں بھی اندر سے نیا ہونے لگا

شدت غم نے حدیں سب توڑ دیں

ضبط کا منظر ہوا ہونے لگا

پھر نئے ارمان شاخوں کو ملے

پتہ پتہ پھر ہرا ہونے لگا

Monday, 1 February 2021

سفینہ موج بلا کے لیے اشارہ تھا

 سفینہ موج بلا کے لیے اشارا تھا

نہ پھر ہوا تھی موافق نہ پھر کنارا تھا

ہم اپنے جلتے ہوئے گھر کو کیسے رو لیتے

ہمارے چاروں طرف ایک ہی نظارا تھا

یہ واقعہ جو سنیں گے تو لوگ ہنس دیں گے

ہمیں ہماری ہی پرچھائیوں نے مارا تھا

Saturday, 30 January 2021

اس سے پہلے کہ سر اتر جائیں

 اس سے پہلے کہ سر اتر جائیں

ہم اداسی میں رنگ بھر جائیں

زخم مُرجھا رہے ہیں رشتوں کے

اب اٹھیں دوستوں کے گھر جائیں

غم کا سورج تو ڈوبتا ہی نہیں

دھوپ ہی دھوپ ہے کدھر جائیں