Tuesday, 21 July 2026

ذہن کا کچھ منتشر تو حال کا خستہ رہا

 ذہن کا کچھ مُنتشر تو حال کا خستہ رہا

کتنا میری ذات سے وہ شخص وابستہ رہا

صُبحِ کاذب روشنی کے جال میں آنے لگی

سیمگوں سُورج اُجالے پر کمر بستہ رہا

دیکھنے میں کچھ ہوں میں محسوس کرنے میں ہوں کچھ

چشم بینا پر مِرا یہ راز سربستہ رہا

اپنے زِنداں سے نکلنا اپنی طاقت میں نہیں

ہر بشر اپنے لیے زنجیر پابستہ رہا

پُرسش غم میں نہ مجھ سے ہی محض عجلت ہوئی

اس کی آنکھوں کا چھلک پڑنا بھی برجستہ رہا

اپنے اندر کی خلش کا کر لیا میں نے علاج

میرے دل میں دوسروں کا درد پیوستہ رہا

یا مسائل سے تقابل زندگی سے یا فرار

بچ نکلنے کا وہاں سے ایک ہی رستہ رہا


یٰسین افضال

No comments:

Post a Comment