Tuesday, 21 July 2026

آخرش خواب پریشاں کو کہاں تک دیکھوں

 آخرش خوابِ پریشاں کو کہاں تک دیکھوں 

ہر طرف رات کا سایہ ہے جہاں تک دیکھوں

اب تو عادت ہے سرِ شام بکھر جانے کی 

ٹُوٹ جانا تو مقدر ہے یہاں تک دیکھوں

ہے تِرے شہر میں زخموں کی نمائش کا رواج

پھر تِرا شوق لبِ زخمِ گُماں تک دیکھوں

ان پرندوں کو بھی ہجرت کا مزا کیا معلوم 

ان کی پرواز کو میں اپنے مکاں تک دیکھوں 

درد کے ہاتھ میسر ہوئے اب کے کس کو 

کس کی رنجش کو نشاں سے میں کماں تک دیکھوں

حوصلہ ہے تو فقط شوقِ نظارہ کر لوں

ورنہ دیوانے کا غم ہے کہ گُماں تک دیکھوں


یونس ڈار

No comments:

Post a Comment