اُگی تھی صحن میں دیوار ہر چڑھی ناں تھی
وہ عشق پیچاں کی اک بیل تھی، بڑھی ناں تھی
میاں! یہ لوگ ہی تاریکیوں کے عادی تھے
چراغ بیچنے والوں کی کچھ کمی ناں تھی
پھر اس کے بعد ہُوا یوں کہ ایک دن اُس نے
وہ بات کہہ دی جو پہلے کبھی کہی ناں تھی
لباس اپنا جو دیکھا تو تیری یاد آئی
کہاں کہاں پہ تِرے ہاتھ کی نمی ناں تھی
وہ اک نشانی جو اُس نے چھپا کے رکھی تھی
وہ دو چراغوں کے مابین بھی چھپی ناں تھی
تمام عمر اسیری میں کاٹ دی ہم نے
ہمارے پاؤں میں زنجیر بھی بندھی ناں تھی
تمہارے بعد تو میں سانس لینا بھُول گیا
تُو زندگی تھی مِری، صرف شاعری ناں تھی
اڑا کے لے گیا یہ وقت رنگ رُوپ اُس کا
مِلا تو چہرے پہ پہلی سی تازگی ناں تھی
وہ تیری یاد تھی اک جس نے پھر لیا بہرُوپ
ہمارے سامنے پتھر کی مُورتی ناں تھی
اندھیرے بھاگتے ہیں اُس چراغ زادی سے
وہ اس لیے بھی مِرے صحن میں جلی ناں تھی
وہ اک کتاب تھی یونس متین شعروں کی
جو میری اپنی لکھی تھی مگر پڑھی ناں تھی
یونس متین
No comments:
Post a Comment