Friday, 24 July 2026

ہجر تھا رات تھی برسات تھی تنہائی تھی

 اس کے ہاتھوں میں وہ تاثیر مسیحائی تھی

سوکھتے پیڑ سے بھی شاخ نکل آئی تھی

زندگی بھر وہ اداسی کے لیے کافی ہے

ایک تصویر جو ہنستے ہوئے کھنچوائی تھی

کل تو مرنے میں سہولت بھی بہت تھی مجھ کو

ہجر تھا رات تھی برسات تھی تنہائی تھی

مر گیا پیاس سے وہ شخص بھی اب حیرت ہے

جس کی دریاؤں سے برسوں کی شناسائی تھی

دیکھ لینے کی سہولت تو سبھی کو تھی مگر

چند ہی آنکھیں تھی جن آنکھوں میں بینائی تھی


یاسر انعام

No comments:

Post a Comment