ہمت تمام پیشِ سفر ختم ہو گئی
منزل ہے دُور اور ڈگر ختم ہو گئی
کیسے کٹے گی رات تِرے اِنتظار میں
سگریٹ جو آخری ہے اگر ختم ہو گئی
پھیلی فضا میں کیا تِرے انفاس کی تپش
پھر سرد رات کھو کے اثر ختم ہو گئی
روز ازل سے تھی جو مِرے دل میں آرزو
دیکھا جو اس کو ایک نظر ختم ہو گئی
ہاتھوں میں اپنے آب ادھر اس نے کیا لیا
سُوکھے لبوں کی پیاس ادھر ختم ہو گئی
ہانی! وہ میرا ساتھ نِبھانے تو آ گئے
تنہائی کی حیات مگر ختم ہو گئی
ہانی بریلوی
علی عباس زیدی
No comments:
Post a Comment