Monday, 20 July 2026

محو فریاد ہو گیا ہے دل

 محوِ فریاد ہو گیا ہے دل

آہ، برباد ہو گیا ہے دل

سینہ کاری میں اپنے ناخن سے

رشکِ فرہاد ہو گیا ہے دل

دیکھتے دیکھتے ستم تیرا

سخت ناشاد ہو گیا ہے دل

کرتے ہی کرتے تِرے قد کا خیال

مثلِ شمشاد ہو گیا ہے دل

ہو کے پابند تیرے کاکل سے

سر سے آزاد ہو گیا ہے دل

الفتِ اہلِ بیت سے آگاہ

حیدرآباد ہو گیا ہے دل


آگاہ ویلوری

محمد باقر آگاہ شافعی ویلوری

No comments:

Post a Comment