غم بھی اگر ہو تو غم نہ کریں گے
راکھ ہو جائیں گے پھر بھی جلیں گے
یاد سے اُس کی ہے رونقِ دل یہ
جینا اگر ہے تو دم یہ بھریں گے
زندگی دے ہمیں اِذنِ تبسّم
سانس کی مالا پہ موتی جَڑیں گے
غم بھی اگر ہو تو غم نہ کریں گے
راکھ ہو جائیں گے پھر بھی جلیں گے
یاد سے اُس کی ہے رونقِ دل یہ
جینا اگر ہے تو دم یہ بھریں گے
زندگی دے ہمیں اِذنِ تبسّم
سانس کی مالا پہ موتی جَڑیں گے
دنیا
میں عالمِ سراب ہوں
میں حکم میں عتاب ہوں
نہ وقت کو کُرید تُو
میں تو کُھلی کتاب ہوں
تُو غور کر کہ کیا ہوں میں
گُناہ کا جواب ہوں
شورشِ دل یہیں پہلو میں دبایا میں نے
دل کے ہر لخت کو ہر رات جلایا میں نے
آج ہر زخمِ تمنا ہوا تازہ پھر سے
ہجر کی تیرگی کو آپ منایا میں نے
جس کے دَم سے مِرے ہونٹوں پہ تبسم بکھرا
پَل وہ بیتے ہوئے ماضی کا چُرایا میں نے