Showing posts with label اسماء آرزو. Show all posts
Showing posts with label اسماء آرزو. Show all posts

Friday, 7 November 2025

غم بھی اگر ہو تو غم نہ کریں گے

 غم بھی اگر ہو تو غم نہ کریں گے

راکھ ہو جائیں گے پھر بھی جلیں گے

یاد سے اُس کی ہے رونقِ دل یہ

جینا اگر ہے تو دم یہ بھریں گے 

زندگی دے ہمیں اِذنِ تبسّم

سانس کی مالا پہ موتی جَڑیں گے

Monday, 5 August 2024

میں عالم سراب ہوں

 دنیا


میں عالمِ سراب ہوں

میں حکم میں عتاب ہوں

نہ وقت کو کُرید تُو

میں تو کُھلی کتاب ہوں

تُو غور کر کہ کیا ہوں میں

گُناہ کا جواب ہوں

Friday, 26 March 2021

شورش دل یہیں پہلو میں دبایا میں نے

 شورشِ دل یہیں پہلو میں دبایا میں نے

دل کے ہر لخت کو ہر رات جلایا میں نے

آج ہر زخمِ تمنا ہوا تازہ پھر سے

ہجر کی تیرگی کو آپ منایا میں نے

جس کے دَم سے مِرے ہونٹوں پہ تبسم بکھرا

پَل وہ بیتے ہوئے ماضی کا چُرایا میں نے