مِرا سخن جو تمہارے خیال تک پہنچا
تو خستہ حال بھی اپنے کمال تک پہنچا
نکھار اور بڑھا ہے گلاب کا تب سے
یہ تیرے ہونٹوں کی جب سے مثال تک پہنچا
خوشا نصیب کہ دل آ گیا ہے آنکھوں میں
یہ بے زباں بھی کسی عرضِ حال تک پہنچا
مِرا سخن جو تمہارے خیال تک پہنچا
تو خستہ حال بھی اپنے کمال تک پہنچا
نکھار اور بڑھا ہے گلاب کا تب سے
یہ تیرے ہونٹوں کی جب سے مثال تک پہنچا
خوشا نصیب کہ دل آ گیا ہے آنکھوں میں
یہ بے زباں بھی کسی عرضِ حال تک پہنچا
کبھی یقیں میں، کبھی تم گمان میں رہنا
مجھے جو مِل نہ سکے اُس جہان میں رہنا
نکل پڑا ہوں تِرے بے نشاں جزیروں کو
نشان بن کے مِرے بادبان میں رہنا
اُسی کے در پہ ہے دستک کی آرزو، جس نے
ازل سیکھا ہے بے در مکان میں رہنا
بیداری میں نین سُلگتے رہتے ہیں
نیند مِلے تو خواب مچلتے رہتے ہیں
بادل چُپکے سے چھا جاتے ہیں دل پر
دو نیناں پھر خوب برستے رہتے ہیں
ہجر کی ماری رات بھٹکتی پھرتی ہے
چاند ستارے دُور چمکتے رہتے ہیں
در بیخودی کا اس لیے کھولا نہیں ابھی
اک قفلِ آگہی ہے جو توڑا نہیں ابھی
ویسے تو صبح ہو چکی، میں جاگ بھی گیا
لیکن کسی کے خواب سے لوٹا نہیں ابھی
جاتے ہوئے وہ مُڑ کے نگاہیں ملائے گا
اُس کو اسی اُمید پہ روکا نہیں ابھی
نہ کوئی ساتھ ہو، یادوں سے بھی کنارا ہو
کہِیں سے ایسے سفر کا مجھے اشارا ہو
ہر ایک پھرتا ہے لے کر ہجوم یاروں کا
کوئی رہا ہی نہیں جو فقط ہمارا ہو
گُماں یہ ہوتا ہے جیسے کسی نے خوابوں میں
حدِ وجود و عدم سے پرے پکارا ہو
جو کہا سب نے، وہی ہم بھی کہا کرتے ہیں
اس پہ یہ زعمِ سخن؛ سب سے جدا کرتے ہیں
وہ جو اس دن نہیں برسا تھا تِرے جانے سے
لے کے آنکھوں میں وہی ابر پھِرا کرتے ہیں
یاد ہے اب بھی صنوبر وہ تِرے آنگن کا
اب بھی ہم خود سے وہیں جا کے ملا کرتے ہیں