Showing posts with label فیصل فارانی. Show all posts
Showing posts with label فیصل فارانی. Show all posts

Thursday, 3 August 2023

مرا سخن جو تمہارے خیال تک پہنچا

 مِرا سخن جو تمہارے خیال تک پہنچا

‎تو خستہ حال بھی اپنے کمال تک پہنچا

نکھار اور بڑھا ہے گلاب کا تب سے

یہ تیرے ہونٹوں کی جب سے مثال تک پہنچا

‎خوشا نصیب کہ دل آ گیا ہے آنکھوں میں

‎یہ بے زباں بھی کسی عرضِ حال تک پہنچا

Sunday, 21 August 2022

کبھی یقیں میں کبھی تم گمان میں رہنا

 کبھی یقیں میں، کبھی تم گمان میں رہنا

مجھے جو مِل نہ سکے اُس جہان میں رہنا

نکل پڑا ہوں تِرے بے نشاں جزیروں کو

نشان بن کے مِرے بادبان میں رہنا

اُسی کے در پہ ہے دستک کی آرزو، جس نے

ازل سیکھا ہے بے در مکان میں رہنا

Thursday, 18 August 2022

بیداری میں نین سلگتے رہتے ہیں

 بیداری میں نین سُلگتے رہتے ہیں

نیند مِلے تو خواب مچلتے رہتے ہیں

بادل چُپکے سے چھا جاتے ہیں دل پر

دو نیناں پھر خوب برستے رہتے ہیں

ہجر کی ماری رات بھٹکتی پھرتی ہے

چاند ستارے دُور چمکتے رہتے ہیں

Wednesday, 17 August 2022

در بیخودی کا اس لیے کھولا نہیں ابھی

 در بیخودی کا اس لیے کھولا نہیں ابھی

اک قفلِ آگہی ہے جو توڑا نہیں ابھی

ویسے تو صبح ہو چکی، میں جاگ بھی گیا

لیکن کسی کے خواب سے لوٹا نہیں ابھی

جاتے ہوئے وہ مُڑ کے نگاہیں ملائے گا

اُس کو اسی اُمید پہ روکا نہیں ابھی

Monday, 15 August 2022

نہ کوئی ساتھ ہو، یادوں سے بھی کنارہ ہو

 نہ کوئی ساتھ ہو، یادوں سے بھی کنارا ہو

‏کہِیں سے ایسے سفر کا مجھے اشارا ہو

ہر ایک پھرتا ہے لے کر ہجوم یاروں کا

کوئی رہا ہی نہیں جو فقط ہمارا ہو

‏گُماں یہ ہوتا ہے جیسے کسی نے خوابوں میں

‏حدِ وجود و عدم سے پرے پکارا ہو

جو کہا سب نے وہی ہم بھی کہا کرتے ہیں

 جو کہا سب نے، وہی ہم بھی کہا کرتے ہیں

اس پہ یہ زعمِ سخن؛ سب سے جدا کرتے ہیں

وہ جو اس دن نہیں برسا تھا تِرے جانے سے

لے کے آنکھوں میں وہی ابر پھِرا کرتے ہیں

یاد ہے اب بھی صنوبر وہ تِرے آنگن کا

اب بھی ہم خود سے وہیں جا کے ملا کرتے ہیں