Monday, 15 August 2022

نہ کوئی ساتھ ہو، یادوں سے بھی کنارہ ہو

 نہ کوئی ساتھ ہو، یادوں سے بھی کنارا ہو

‏کہِیں سے ایسے سفر کا مجھے اشارا ہو

ہر ایک پھرتا ہے لے کر ہجوم یاروں کا

کوئی رہا ہی نہیں جو فقط ہمارا ہو

‏گُماں یہ ہوتا ہے جیسے کسی نے خوابوں میں

‏حدِ وجود و عدم سے پرے پکارا ہو

‏مِرے بھی نام کا شاید خدا نے ہجر زدہ

‏کسی کی آنکھ میں آنسو کوئی اتارا ہو

‏کہِیں تو کوئی سمندر مزاج دوست مِلے

‏کہ جس کا ایک کنارا ہو، جو ہمارا ہو


فیصل فارانی

No comments:

Post a Comment