نہ کوئی ساتھ ہو، یادوں سے بھی کنارا ہو
کہِیں سے ایسے سفر کا مجھے اشارا ہو
ہر ایک پھرتا ہے لے کر ہجوم یاروں کا
کوئی رہا ہی نہیں جو فقط ہمارا ہو
گُماں یہ ہوتا ہے جیسے کسی نے خوابوں میں
حدِ وجود و عدم سے پرے پکارا ہو
مِرے بھی نام کا شاید خدا نے ہجر زدہ
کسی کی آنکھ میں آنسو کوئی اتارا ہو
کہِیں تو کوئی سمندر مزاج دوست مِلے
کہ جس کا ایک کنارا ہو، جو ہمارا ہو
فیصل فارانی
No comments:
Post a Comment