Showing posts with label منیش شکلا. Show all posts
Showing posts with label منیش شکلا. Show all posts

Friday, 18 March 2022

اک خواب چھن سے ٹوٹ کے آنکھوں میں گڑ گیا

 اک خواب چھن سے ٹوٹ کے آنکھوں میں گڑ گیا

اتنا ہنسے کہ، چیخ کے رونا بھی پڑ گیا

یہ کس نے اپنی ٹیس ورق پر اتار دی

یہ کون اپنے دل کو سیاہی سے جڑ گیا

جب تک ہمارے نام سے واقف ہوا جہاں 

تب تک ہمارے نام کا پتھر اکھڑ گیا

Monday, 26 April 2021

دل کا سارا درد بھرا تصویروں میں

 دل کا سارا درد بھرا تصویروں میں 

ایک مصور نقش ہوا تصویروں میں 

چند لکیریں تو اس درجہ گہری تھیں 

دیکھنے والا ڈوب گیا تصویروں میں 

ایک عجب سا جادو بکھرا رنگوں کا 

سب کو اپنا عکس دکھا تصویروں میں 

Monday, 19 April 2021

آخری کوشش بھی کر کے دیکھتے

 آخری کوشش بھی کر کے دیکھتے

پھر اسی در سے گزر کے دیکھتے

گفتگو کا کوئی تو ملتا سرا

پھر اسے ناراض کر کے دیکھتے

کاش جڑ جاتا وہ ٹوٹا آئینہ

ہم بھی کچھ دن بن سنور کے دیکھتے

Wednesday, 14 April 2021

ضبط غم سے سوا ملال ہوا

 ضبط غم سے سوا ملال ہوا

اشک آئے تو جی بحال ہوا

پھر سے بُجھنے لگی ہے بینائی

پھر تِری دید کا سوال ہوا

اک ذرا چاند کے اُبھرنے سے

دیکھ سورج کا رنگ لال ہوا

یار ہماری بات نہ پوچھ

 یار ہماری بات نہ پوچھ

کیسے بیتی رات نہ پوچھ

کس درجہ پامال ہوئے

بیکس کے جذبات نہ پوچھ

اب تک جسم سلگتا ہے

کیسی تھی برسات نہ پوچھ

Friday, 19 March 2021

تو مجھ کو سن رہا ہے تو سنائی کیوں نہیں دیتا

 تُو مجھ کو سن رہا ہے تو سنائی کیوں نہیں دیتا

یہ کچھ الزام ہیں میرے، صفائی کیوں نہیں دیتا

مِرے ہنستے ہوئے لہجے سے دھوکا کھا رہے ہو تم

مِرا اترا ہوا چہرہ دکھائی کیوں نہیں دیتا؟

نظر انداز کر رکھا ہے دنیا نے تجھے کب سے

کسی دن اپنے ہونے کی دُہائی کیوں نہیں دیتا