اک خواب چھن سے ٹوٹ کے آنکھوں میں گڑ گیا
اتنا ہنسے کہ، چیخ کے رونا بھی پڑ گیا
یہ کس نے اپنی ٹیس ورق پر اتار دی
یہ کون اپنے دل کو سیاہی سے جڑ گیا
جب تک ہمارے نام سے واقف ہوا جہاں
تب تک ہمارے نام کا پتھر اکھڑ گیا
اک خواب چھن سے ٹوٹ کے آنکھوں میں گڑ گیا
اتنا ہنسے کہ، چیخ کے رونا بھی پڑ گیا
یہ کس نے اپنی ٹیس ورق پر اتار دی
یہ کون اپنے دل کو سیاہی سے جڑ گیا
جب تک ہمارے نام سے واقف ہوا جہاں
تب تک ہمارے نام کا پتھر اکھڑ گیا
دل کا سارا درد بھرا تصویروں میں
ایک مصور نقش ہوا تصویروں میں
چند لکیریں تو اس درجہ گہری تھیں
دیکھنے والا ڈوب گیا تصویروں میں
ایک عجب سا جادو بکھرا رنگوں کا
سب کو اپنا عکس دکھا تصویروں میں
آخری کوشش بھی کر کے دیکھتے
پھر اسی در سے گزر کے دیکھتے
گفتگو کا کوئی تو ملتا سرا
پھر اسے ناراض کر کے دیکھتے
کاش جڑ جاتا وہ ٹوٹا آئینہ
ہم بھی کچھ دن بن سنور کے دیکھتے
ضبط غم سے سوا ملال ہوا
اشک آئے تو جی بحال ہوا
پھر سے بُجھنے لگی ہے بینائی
پھر تِری دید کا سوال ہوا
اک ذرا چاند کے اُبھرنے سے
دیکھ سورج کا رنگ لال ہوا
یار ہماری بات نہ پوچھ
کیسے بیتی رات نہ پوچھ
کس درجہ پامال ہوئے
بیکس کے جذبات نہ پوچھ
اب تک جسم سلگتا ہے
کیسی تھی برسات نہ پوچھ
تُو مجھ کو سن رہا ہے تو سنائی کیوں نہیں دیتا
یہ کچھ الزام ہیں میرے، صفائی کیوں نہیں دیتا
مِرے ہنستے ہوئے لہجے سے دھوکا کھا رہے ہو تم
مِرا اترا ہوا چہرہ دکھائی کیوں نہیں دیتا؟
نظر انداز کر رکھا ہے دنیا نے تجھے کب سے
کسی دن اپنے ہونے کی دُہائی کیوں نہیں دیتا