ہماری پلکوں سے چند قطرے جو اشک بن کر ڈھلک پڑیں گے
یہ اجڑے گلشن میں پھول سارے ہمیں یقیں ہے مہک پڑیں گے
یہ چاند مکھرا، نشیلی آنکھیں، مثال ریشم گھنیری زلفیں
بچارے رندوں کی خیر یارب جو دیکھیں زاہد بہک پڑیں گے
خزاں رتوں میں بہار بن کر اے جان جاناں جو تم ملو گے
ہماری آنکھوں میں بجھتے تارے مثال جگنو چمک پڑیں گے