Showing posts with label قیصر جمیل. Show all posts
Showing posts with label قیصر جمیل. Show all posts

Thursday, 15 February 2024

ہماری پلکوں سے چند قطرے جو اشک بن کر ڈھلک پڑیں گے

ہماری پلکوں سے چند قطرے جو اشک بن کر ڈھلک پڑیں گے

یہ اجڑے گلشن میں پھول سارے ہمیں یقیں ہے مہک پڑیں گے

یہ چاند مکھرا، نشیلی آنکھیں، مثال ریشم گھنیری زلفیں

بچارے رندوں کی خیر یارب جو دیکھیں زاہد بہک پڑیں گے

خزاں رتوں میں بہار بن کر اے جان جاناں جو تم ملو گے

ہماری آنکھوں میں بجھتے تارے مثال جگنو چمک پڑیں گے

Tuesday, 21 November 2023

تم ہو انجم ہے کہ اک انجمن آرائی ہے

 تم ہو، انجم ہے کہ اک انجمن آرائی ہے

ہم ہیں، اک دشت ہے اور گوشۂ تنہائی ہے

تم خفا، گُل بھی خفا، اہلِ گُلستاں بھی خفا

ہم نے پُھولوں سے محبت کی سزا پائی ہے

اب تجھے میری جفاؤں پہ ہے شکوہ کیوں کر

میں نہیں اہلِ وفا، تُو بھی تو ہرجائی ہے

Saturday, 18 November 2023

سنتے ہیں وفا کے رستے میں ہم تم کبھی منزل پا نہ سکے

 سنتے ہیں وفا کے رستے میں ہم تم کبھی منزل پا نہ سکے

اک ڈور جو پہلے اُلجھی تھی، ہم آج تلک سُلجھا نہ سکے

جب فصل بہاراں آئی تھی کچھ خواب بُنے تھے دونوں نے

ہم عہدِ وفا پر قائم ہیں،۔ ہاں آپ کرم فرما نہ سکے

یہ لالہ و گُل رنگین قبا میرے ہی لہو سے آج بھی ہیں

وہ آنکھ ہمیں دِکھلاتے ہیں جو آنسو بھی چھلکا نہ سکے

Wednesday, 15 November 2023

اے جان وفا اب تو ہی بتا

 اے جان وفا اب تُو ہی بتا


یاد تمہاری جب آئی دل میں آیا گیت لکھوں

ساون کے سنہرے موسم میں تیری اک تصویر لکھوں

زلفین تمہاری شام لکھوں، باتوں کو سنگیت لکھوں

کچھ اور بتا اے جانِ وفا میں تجھ کو کیا کیا چیز لکھوں

صبح بنارس تیرا چہرہ، زُلفیں اودھ کی شام لکھوں

گالوں کو شفق آنکھوں میں چمک، ہونٹوں کو شرابی جام لکھوں

Tuesday, 8 November 2022

میں خود کو ڈھونڈتا ہوں نہ جانے کہاں کہاں

 میں خود کو ڈھونڈتا ہوں نہ جانے کہاں کہاں

بچھڑا ہوں جس چمن سے میں وہ گلستاں کہاں 

منزل کی جستجو مجھے لے آئی کس جگہ

 جس کارواں کی گرد ہوں وہ کارواں کہاں 

اب خاک بھی نہیں کہ اڑایا کریں جسے

وہ شاخِ گل، وہ گلستاں، وہ آشیاں کہاں