میں خود کو ڈھونڈتا ہوں نہ جانے کہاں کہاں
بچھڑا ہوں جس چمن سے میں وہ گلستاں کہاں
منزل کی جستجو مجھے لے آئی کس جگہ
جس کارواں کی گرد ہوں وہ کارواں کہاں
اب خاک بھی نہیں کہ اڑایا کریں جسے
وہ شاخِ گل، وہ گلستاں، وہ آشیاں کہاں
اک بوجھ ہے کہ دل پہ لیے پھر رہا ہوں میں
وہ درد دل، وہ لذتِ درد نہاں کہاں
سرشار ہو رہا تھا کبھی بِن پیے بھی میں
اب پی کے بھی وہ لذتِ سرشاریاں کہاں
جب ریت کے گھروندے بھی محلوں سے کم نہ تھے
بچپن کی بھولی بھالی وہ معصومیاں کہاں
گھر ڈھونڈنا وہ رات کو تاروں کے شہر میں
پریوں کے دیس کی وہ حسیں داستاں کہاں
پہروں گزارتے تھے کبھی تتلیوں میں ہم
اب کاروبار زیست سے فرصت یہاں کہاں
قیصر چلو کہ چلتے ہیں صحرا کی اور اب
شہروں میں اب وہ انجمن آرائیاں کہاں
قیصر جمیل ندوی
No comments:
Post a Comment