Showing posts with label مہر لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label مہر لکھنوی. Show all posts

Sunday, 17 October 2021

نہ پہنچے چھوٹ کر کنج قفس سے ہم نشیمن تک

 نہ پہنچے چھوٹ کر کنجِ قفس سے ہم نشیمن تک

پرِ پرواز نے یاری نہ کی دیوارِ گلشن تک

وہ بیدل ہوں کہ مجھ سے دوستی کرتا ہے دشمن تک

وہ رہرو ہوں کہ مجھ کو راہ بتلاتا ہے رہزن تک

پسِ مردن یہ اے مشاطۂ بادِ صبا کرنا

ہماری خاک سرمہ بن کے پہنچے چشمِ روزن تک

پڑے ہیں مست بھی ساقی ایاغ کے نزدیک

 پڑے ہیں مست بھی ساقی ایاغ کے نزدیک

ہجوم پر ہیں پتنگے چراغ کے نزدیک

ہمارے اشک مٹاتے ہیں داغِ دل کی بہار

یہ آب شور کی نہریں ہیں باغ کے نزدیک

صفائی یار سے میلے میں ہو گئی اپنی

ملال دور ہوا عیشِ باغ کے نزدیک

مژگاں نے روکا آنکھوں میں دم انتظار سے

 مژگاں نے روکا آنکھوں میں دمِ انتظار سے

الجھے ہیں خار دامنِ بادِ بہار سے

مطلب خزاں سے ہے نہ غرض ہے بہار سے

ہم دل اٹھا چکے چمنِ روزگار سے

یہ گل کھلا نہ لالہ رخوں کے فراق میں

ہم داغ لے چلے چمنِ روزگار سے

Monday, 30 November 2020

الجھے ہیں خار دامن باد بہار سے

 مژگاں نے روکا آنکھوں میں دم انتظار سے

الجھے ہیں خار دامن بادِ بہار سے

مطلب خزاں سے ہے نہ غرض ہے بہار سے

ہم دل اٹھا چکے چمنِ روزگار سے

یہ گل کھلا نہ لالہ رُخوں کے فراق میں

ہم داغ لے چلے چمنِ روزگار سے

Sunday, 29 November 2020

پابند ہر جفا پہ تمہاری وفا کے ہیں

 پابند ہر جفا پہ تمہاری وفا کے ہیں

رحم اے بتو کہ ہم بھی تو بندے خدا کے ہیں

گلچیں بہار گل میں نہ کر منع سیر باغ

کیا ہم غبار دامن باد صبا کے ہیں

جس کو یقیں بقا کا ہو واعظ تری سنے

ہم لوگ مست بادۂ جامِ فنا کے ہیں