نہ پہنچے چھوٹ کر کنجِ قفس سے ہم نشیمن تک
پرِ پرواز نے یاری نہ کی دیوارِ گلشن تک
وہ بیدل ہوں کہ مجھ سے دوستی کرتا ہے دشمن تک
وہ رہرو ہوں کہ مجھ کو راہ بتلاتا ہے رہزن تک
پسِ مردن یہ اے مشاطۂ بادِ صبا کرنا
ہماری خاک سرمہ بن کے پہنچے چشمِ روزن تک
نہ پہنچے چھوٹ کر کنجِ قفس سے ہم نشیمن تک
پرِ پرواز نے یاری نہ کی دیوارِ گلشن تک
وہ بیدل ہوں کہ مجھ سے دوستی کرتا ہے دشمن تک
وہ رہرو ہوں کہ مجھ کو راہ بتلاتا ہے رہزن تک
پسِ مردن یہ اے مشاطۂ بادِ صبا کرنا
ہماری خاک سرمہ بن کے پہنچے چشمِ روزن تک
پڑے ہیں مست بھی ساقی ایاغ کے نزدیک
ہجوم پر ہیں پتنگے چراغ کے نزدیک
ہمارے اشک مٹاتے ہیں داغِ دل کی بہار
یہ آب شور کی نہریں ہیں باغ کے نزدیک
صفائی یار سے میلے میں ہو گئی اپنی
ملال دور ہوا عیشِ باغ کے نزدیک
مژگاں نے روکا آنکھوں میں دمِ انتظار سے
الجھے ہیں خار دامنِ بادِ بہار سے
مطلب خزاں سے ہے نہ غرض ہے بہار سے
ہم دل اٹھا چکے چمنِ روزگار سے
یہ گل کھلا نہ لالہ رخوں کے فراق میں
ہم داغ لے چلے چمنِ روزگار سے
مژگاں نے روکا آنکھوں میں دم انتظار سے
الجھے ہیں خار دامن بادِ بہار سے
مطلب خزاں سے ہے نہ غرض ہے بہار سے
ہم دل اٹھا چکے چمنِ روزگار سے
یہ گل کھلا نہ لالہ رُخوں کے فراق میں
ہم داغ لے چلے چمنِ روزگار سے
پابند ہر جفا پہ تمہاری وفا کے ہیں
رحم اے بتو کہ ہم بھی تو بندے خدا کے ہیں
گلچیں بہار گل میں نہ کر منع سیر باغ
کیا ہم غبار دامن باد صبا کے ہیں
جس کو یقیں بقا کا ہو واعظ تری سنے
ہم لوگ مست بادۂ جامِ فنا کے ہیں