Showing posts with label احمد نثار. Show all posts
Showing posts with label احمد نثار. Show all posts

Saturday, 15 November 2025

جو پیغام حق کو سنائے محمد

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جو پیغامِ حق کو سنائے محمدﷺ

سو باطل کی ہستی مٹائے محمدﷺ

معطر ہے محفل جو آئے محمدﷺ

ہے روشن فضا مسکرائے محمدﷺ

تنفر کی ظلمت مٹی ہے دلوں سے

چراغِ محبت جلائے محمدﷺ

Tuesday, 5 October 2021

ہم بھی گمنام کسی نام پہ مر جاتے ہیں

 ہم بھی گمنام کسی نام پہ مر جاتے ہیں

اور مر کر بھی تِرا نام ہی کر جاتے ہیں

جانے کس نام سے رشتوں کو نبھانا ہے ہمیں

اور کس نام سے ایام گزر جاتے ہیں

وقت کی شام کسی نے نہیں دیکھی لیکن

شام کا وقت تِرے نام ہی کر جاتے ہیں

Sunday, 6 June 2021

دل کو بنام عشق سجانا پڑا ہمیں

 دل کو بہ نامِ عشق سجانا پڑا ہمیں

پھر اک فریب دل میں بسانا پڑا ہمیں

یہ کس کا حال کس کو سنانا پڑا ہمیں

اور دل کا حال دل سے چھپانا پڑا ہمیں

جل کر بھی تیرے نام کی خوشبو بکھیر دے

پھولوں میں ایسی آگ لگانا پڑا ہمیں

Friday, 4 June 2021

وہ کبھی آپ سے وفا نہ کیا

 وہ کبھی آپ سے وفا نہ کیا

خود سے خود کو اگر جدا نہ کیا

بھول جانا ہی ایک راہ، مگر

بھول جانے کا حوصلہ نہ کیا

خود کو پاؤں یا خود کو کھو جاؤں

بس یہی میں نے فیصلہ نہ کیا

Wednesday, 21 April 2021

عشق میں برباد ہونے کے سوا رکھا نہ تھا

 عشق میں برباد ہونے کے سوا رکھا نہ تھا

غم کو سہنے کے علاوہ کوئی بھی چارہ نہ تھا

یاد رہ رہ کر کسی کی ہے ستاتی رات بھر

صبح ہوتے بھُول جانا یہ تجھے شیوہ نہ تھا

یہ تِری اُلفت مجھے رکھتی ہے بیتابی میں گم

یہ سبھی کو تھی خبر لیکن کوئی چرچا نہ تھا

Sunday, 18 April 2021

مقام ہجر کہیں امتحاں سے خالی ہے

 مقام ہجر کہیں امتحاں سے خالی ہے

کہیں زمیں بھی کسی آسماں سے خالی ہے

نشاط غم میں تو درد نہاں تلاش نہ کر

نشاط غم کبھی درد نہاں سے خالی ہے

عروج غم مِرے سوز جگر سے آ پوچھا

مقام دل کہیں سوز نہاں سے خالی ہے

Monday, 1 March 2021

بجھتی آنکھوں سے مری خواب کہاں جاتا ہے

 بجھتی آنکھوں سے مِری خواب کہاں جاتا ہے

اب مجھے لے کے یہ سیلاب کہاں جاتا ہے

روح تو کب سے پریشاں ہے نمو کی خاطر

مُشت بھر خطۂ شاداب کہاں جاتا ہے

اپنی ہستی میں تو طوفان کھنچے آتے ہیں

ہے جو پاؤں میں وہ گرداب کہاں جاتا ہے