عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو پیغامِ حق کو سنائے محمدﷺ
سو باطل کی ہستی مٹائے محمدﷺ
معطر ہے محفل جو آئے محمدﷺ
ہے روشن فضا مسکرائے محمدﷺ
تنفر کی ظلمت مٹی ہے دلوں سے
چراغِ محبت جلائے محمدﷺ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو پیغامِ حق کو سنائے محمدﷺ
سو باطل کی ہستی مٹائے محمدﷺ
معطر ہے محفل جو آئے محمدﷺ
ہے روشن فضا مسکرائے محمدﷺ
تنفر کی ظلمت مٹی ہے دلوں سے
چراغِ محبت جلائے محمدﷺ
ہم بھی گمنام کسی نام پہ مر جاتے ہیں
اور مر کر بھی تِرا نام ہی کر جاتے ہیں
جانے کس نام سے رشتوں کو نبھانا ہے ہمیں
اور کس نام سے ایام گزر جاتے ہیں
وقت کی شام کسی نے نہیں دیکھی لیکن
شام کا وقت تِرے نام ہی کر جاتے ہیں
دل کو بہ نامِ عشق سجانا پڑا ہمیں
پھر اک فریب دل میں بسانا پڑا ہمیں
یہ کس کا حال کس کو سنانا پڑا ہمیں
اور دل کا حال دل سے چھپانا پڑا ہمیں
جل کر بھی تیرے نام کی خوشبو بکھیر دے
پھولوں میں ایسی آگ لگانا پڑا ہمیں
وہ کبھی آپ سے وفا نہ کیا
خود سے خود کو اگر جدا نہ کیا
بھول جانا ہی ایک راہ، مگر
بھول جانے کا حوصلہ نہ کیا
خود کو پاؤں یا خود کو کھو جاؤں
بس یہی میں نے فیصلہ نہ کیا
عشق میں برباد ہونے کے سوا رکھا نہ تھا
غم کو سہنے کے علاوہ کوئی بھی چارہ نہ تھا
یاد رہ رہ کر کسی کی ہے ستاتی رات بھر
صبح ہوتے بھُول جانا یہ تجھے شیوہ نہ تھا
یہ تِری اُلفت مجھے رکھتی ہے بیتابی میں گم
یہ سبھی کو تھی خبر لیکن کوئی چرچا نہ تھا
مقام ہجر کہیں امتحاں سے خالی ہے
کہیں زمیں بھی کسی آسماں سے خالی ہے
نشاط غم میں تو درد نہاں تلاش نہ کر
نشاط غم کبھی درد نہاں سے خالی ہے
عروج غم مِرے سوز جگر سے آ پوچھا
مقام دل کہیں سوز نہاں سے خالی ہے
بجھتی آنکھوں سے مِری خواب کہاں جاتا ہے
اب مجھے لے کے یہ سیلاب کہاں جاتا ہے
روح تو کب سے پریشاں ہے نمو کی خاطر
مُشت بھر خطۂ شاداب کہاں جاتا ہے
اپنی ہستی میں تو طوفان کھنچے آتے ہیں
ہے جو پاؤں میں وہ گرداب کہاں جاتا ہے