Showing posts with label ابرار مظفر. Show all posts
Showing posts with label ابرار مظفر. Show all posts

Monday, 11 April 2022

اے عشق تیرے نور کو محشر میں پھینک دوں

 اے عشق تیرے نور کو محشر میں پھینک دوں

موسٰی کو کوہِ طور کے منظر میں پھینک دوں

عرشِ بریں کی آنکھ سے تصویر کھینچ کر

شعروں کا قفل توڑ کے شاعر میں پھینک دوں

کافر تو نہ کہو گے اگر وحشتوں کے بعد

کعبے کے سارے رنگوں کو مندر میں پھینک دوں

Friday, 4 March 2022

حالت ہوئی خراب مگر دل بھرا نہیں

 حالت ہوئی خراب مگر دل بھرا نہیں

یعنی خدا کے سامنے بھی آئینہ نہیں

تُو آخری مقام سے آگے ملا مجھے

ایسا مقام جس کی یہ دنیا جگہ نہیں

اک میں ہوں تیرے واسطے مولا سے لڑ پڑا

اک تُو ہے اپنی ذات سے آگے بڑھا نہیں

Friday, 11 February 2022

اے خون فلاں شخص رگ جاں سے قریں ہو

 اے خونِ فلاں شخص رگِ جاں سے قریں ہو

اچھلا تو سہی درد کو درماں سے قریں ہو

اب چھائے گا آنکھوں پہ حسیں درد کا سایہ

انسان جو مر جائے تو یزداں سے قریں ہو

میں خاک ہوں اور خاک میں پتھر کی نمائش

جوں رام کی میت مجھے یزداں سے قریں ہو

Monday, 31 January 2022

چراغ بجھ بھی گیا تو ہوا کا پردہ ہے

 چراغ بجھ بھی گیا تو ہوا کا پردہ ہے

ہمارے ساتھ ہمارے خدا کا پردہ ہے

میں ایسی خاک سے گوندھا گیا مصیبت میں

میں ایسی موت ہوں جس سے قضا کا پردہ ہے

یہ اپنی رمز مجھی پر عیاں نہیں کرتا

مِرے وجود کا مجھ سے بلا کا پردہ ھے

Sunday, 9 January 2022

میرے پہلو میں مرا سایہ پڑا چیختا ہے

 اے خدا قبر میں اک جسم پڑا چیختا ہے

موسمِ قہر میں اک پیڑ ہرا چیختا ہے

پھر اداسی کا ترے لب سے مجھے علم ہوا

تُو کبھی آئے زمیں پر تو بڑا چیختا ہے

میرے اندر سے صداؤں کا ہجوم اٹھتا ہے

میری وحشت سے کہے کتنا بُرا چیختا ہے

Saturday, 8 January 2022

ہمارے بعد خدا کا جہان بجھنے لگا

دماغ جانے لگا اور گمان بجھنے لگا

ہمارے بعد خدا کا جہان بجھنے لگا

وہ میری سمت چلا ایسی بے نیازی سے

فقیر جلنے لگا، اور مہان بجھنے لگا

میں وہ چراغ جو روشن رہا تھا صدیوں سے

میں خود سے ملنے کے کچھ درمیان بجھنے لگا

Saturday, 21 November 2020

میں ایک دن جو خدا کے بھی روبرو نہ ہوا

 میں ایک دن جو خدا کے بھی روبرو نہ ہوا

تو کیا برا ہے کہ پھر محوِ جستجو نہ ہوا

میں کس کے ہاتھ کو چوموں گا بر سرِ وحشت

میں کس کا ہو کے رہوں گا جو میرا تُو نہ ہوا

پڑے ہیں اپنے خداؤں کو پوجنے میں سبھی

کسی کا سینہ کسی سے ذرا رفو نہ ہوا