اے عشق تیرے نور کو محشر میں پھینک دوں
موسٰی کو کوہِ طور کے منظر میں پھینک دوں
عرشِ بریں کی آنکھ سے تصویر کھینچ کر
شعروں کا قفل توڑ کے شاعر میں پھینک دوں
کافر تو نہ کہو گے اگر وحشتوں کے بعد
کعبے کے سارے رنگوں کو مندر میں پھینک دوں
اے عشق تیرے نور کو محشر میں پھینک دوں
موسٰی کو کوہِ طور کے منظر میں پھینک دوں
عرشِ بریں کی آنکھ سے تصویر کھینچ کر
شعروں کا قفل توڑ کے شاعر میں پھینک دوں
کافر تو نہ کہو گے اگر وحشتوں کے بعد
کعبے کے سارے رنگوں کو مندر میں پھینک دوں
حالت ہوئی خراب مگر دل بھرا نہیں
یعنی خدا کے سامنے بھی آئینہ نہیں
تُو آخری مقام سے آگے ملا مجھے
ایسا مقام جس کی یہ دنیا جگہ نہیں
اک میں ہوں تیرے واسطے مولا سے لڑ پڑا
اک تُو ہے اپنی ذات سے آگے بڑھا نہیں
اے خونِ فلاں شخص رگِ جاں سے قریں ہو
اچھلا تو سہی درد کو درماں سے قریں ہو
اب چھائے گا آنکھوں پہ حسیں درد کا سایہ
انسان جو مر جائے تو یزداں سے قریں ہو
میں خاک ہوں اور خاک میں پتھر کی نمائش
جوں رام کی میت مجھے یزداں سے قریں ہو
چراغ بجھ بھی گیا تو ہوا کا پردہ ہے
ہمارے ساتھ ہمارے خدا کا پردہ ہے
میں ایسی خاک سے گوندھا گیا مصیبت میں
میں ایسی موت ہوں جس سے قضا کا پردہ ہے
یہ اپنی رمز مجھی پر عیاں نہیں کرتا
مِرے وجود کا مجھ سے بلا کا پردہ ھے
اے خدا قبر میں اک جسم پڑا چیختا ہے
موسمِ قہر میں اک پیڑ ہرا چیختا ہے
پھر اداسی کا ترے لب سے مجھے علم ہوا
تُو کبھی آئے زمیں پر تو بڑا چیختا ہے
میرے اندر سے صداؤں کا ہجوم اٹھتا ہے
میری وحشت سے کہے کتنا بُرا چیختا ہے
دماغ جانے لگا اور گمان بجھنے لگا
ہمارے بعد خدا کا جہان بجھنے لگا
وہ میری سمت چلا ایسی بے نیازی سے
فقیر جلنے لگا، اور مہان بجھنے لگا
میں وہ چراغ جو روشن رہا تھا صدیوں سے
میں خود سے ملنے کے کچھ درمیان بجھنے لگا
میں ایک دن جو خدا کے بھی روبرو نہ ہوا
تو کیا برا ہے کہ پھر محوِ جستجو نہ ہوا
میں کس کے ہاتھ کو چوموں گا بر سرِ وحشت
میں کس کا ہو کے رہوں گا جو میرا تُو نہ ہوا
پڑے ہیں اپنے خداؤں کو پوجنے میں سبھی
کسی کا سینہ کسی سے ذرا رفو نہ ہوا