ہر خرد مند تو محفل میں بہانے سے اٹھا
ضبط کا بار فقط ایک دوانے سے اٹھا
بھول بیٹھے ہیں تجھے سارے زمانے والے
ہاتھ اب تو بھی تو بے درد زمانے سے اٹھا
ہاں میری نیک مزاجی میری کمزوری تھی
سارا فتنہ تو مِرے ہاتھ ملانے سے اٹھا
ہر خرد مند تو محفل میں بہانے سے اٹھا
ضبط کا بار فقط ایک دوانے سے اٹھا
بھول بیٹھے ہیں تجھے سارے زمانے والے
ہاتھ اب تو بھی تو بے درد زمانے سے اٹھا
ہاں میری نیک مزاجی میری کمزوری تھی
سارا فتنہ تو مِرے ہاتھ ملانے سے اٹھا
مِل کتنا دُھواں اُگل رہی ہے
کس کس کی حیات جل رہی ہے
لفظوں کو حنوط کرنے والو
انسان کی لاش گل رہی ہے
مصلوب ہے پیار کا فرشتہ
نفرت کی چڑیل پل رہی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نبیؐ تو رحمتِ حق ہیں نبیؐ کو کیا کہیے
سوال یہ ہے کہ اُن کے وصی کو کیا کہیے
خدا کے گھر میں جو پیدا ہوا بشکل بشر
خدا سے پوچھیے اُس آدمی کو کیا کہیے
قدم ہوا پہ ہوں اور ہاتھ میں درِ خیبر
یہ سوچتا ہوں کہ ایسے ولی کو کیا کہیے
غم کا لاوا دیکھ بہہ نکلا جہاں میں کس طرح
جی رہے ہیں لوگ اس آتش فشاں میں کس طرح
بے وفا کوئی نہ تھا، نا مہرباں کوئی نہ تھا
پڑ گئے رخنے فصیلِ کارواں میں کس طرح
دیکھنا ہے یہ لہو برسا ہے یا رنگِ بہار؟
لگ گئی ہے آگ سارے گلستاں میں کس طرح