Showing posts with label ظفر ابن متین. Show all posts
Showing posts with label ظفر ابن متین. Show all posts

Saturday, 10 May 2025

ہر خرد مند تو محفل میں بہانے سے اٹھا

 ہر خرد مند تو محفل میں بہانے سے اٹھا

ضبط کا بار فقط ایک دوانے سے اٹھا

بھول بیٹھے ہیں تجھے سارے زمانے والے

ہاتھ اب تو بھی تو بے درد زمانے سے اٹھا

ہاں میری نیک مزاجی میری کمزوری تھی

سارا فتنہ تو مِرے ہاتھ ملانے سے اٹھا

Wednesday, 9 April 2025

مل کتنا دھواں اگل رہی ہے

 مِل کتنا دُھواں اُگل رہی ہے

کس کس کی حیات جل رہی ہے

لفظوں کو حنوط کرنے والو

انسان کی لاش گل رہی ہے

مصلوب ہے پیار کا فرشتہ

نفرت کی چڑیل پل رہی ہے

Saturday, 31 August 2024

نبی تو رحمت حق ہیں نبی کو کیا کہیے

  عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نبیؐ تو رحمتِ حق ہیں نبیؐ کو کیا کہیے

سوال یہ ہے کہ اُن کے وصی کو کیا کہیے

خدا کے گھر میں جو پیدا ہوا بشکل بشر

خدا سے پوچھیے اُس آدمی کو کیا کہیے

قدم ہوا پہ ہوں اور ہاتھ میں درِ خیبر

یہ سوچتا ہوں کہ ایسے ولی کو کیا کہیے

Friday, 30 August 2024

غم کا لاوا دیکھ بہہ نکلا جہاں میں کس طرح

 غم کا لاوا دیکھ بہہ نکلا جہاں میں کس طرح

جی رہے ہیں لوگ اس آتش فشاں میں کس طرح

بے وفا کوئی نہ تھا، نا مہرباں کوئی نہ تھا

پڑ گئے رخنے فصیلِ کارواں میں کس طرح

دیکھنا ہے یہ لہو برسا ہے یا رنگِ بہار؟

لگ گئی ہے آگ سارے گلستاں میں کس طرح