Showing posts with label امجد غزنوی. Show all posts
Showing posts with label امجد غزنوی. Show all posts

Thursday, 8 October 2026

لب تشنۂ تمنا کہیں جام تک نہ پہنچے

 لب تشنۂ تمنا کہیں جام تک نہ پہنچے

یہ سرورِ ذوقِ پیہم بھی تمام تک نہ پہنچے

بجلی گرانے والے! یہ بات یاد رکھنا

شعلہ چمن سے اٹھ کر تِرے بام تک نہ پہنچے

تیشہ زنی اکارت،۔ بے سُود سر فروشی

وہ جُوئے شِیر بھی کیا جو عوام تک نہ پہنچے

Tuesday, 7 July 2026

سودائے شہادت نہ ہو جس سر میں وہ سر کیا

 سودائے شہادت نہ ہو جس سر میں وہ سر کیا

جس میں نہ حرارت ہو نہ حرکت وہ شرر کیا

نکہت ہو نہ رنگت تو چمن میں گُلِ تر کیا

جب علم و ہُنر ہو نہ بشر میں تو بشر کیا

جُھک جائے عدُو کا بھی نہ سر جس پہ وہ در کیا

ماحول مسرّت کا نہ ہو جس میں وہ گھر کیا

Wednesday, 18 June 2025

نہ کعبہ راہ میں اس کی نہ یہ بت خانہ آتا ہے

 نہ کعبہ راہ میں اس کی نہ یہ بت خانہ آتا ہے

جب آتا ہے کسی پر دل تو بے تابانہ آتا ہے

نہ جامِ مئے نہ تنہا ساقئ مے خانہ آتا ہے

مِری نظروں میں جب آتا ہے کُل میخانہ آتا ہے

پگھل جاتا ہے سینے میں دل شمع فروزاں بھی

قدم بوسی کو جس دم سر بکف پروانہ آتا ہے

Sunday, 29 December 2024

ارے یہ عدل یہ انصاف الاماں ان کا

 ارے یہ عدل یہ انصاف الاماں ان کا

کہ ہر زمین مِری اور ہر آسماں ان کا

دلوں میں جن کے غم اہل کارواں نہ رہا

پہنچ سکے گا نہ منزل پہ کارواں ان کا

ہزار کعبۂ ایماں وہیں وہیں پہ بنے

قدم پڑا تھا چمن میں جہاں جہاں ان کا

Monday, 9 December 2024

گلشن جو برق کا ہے سہارا لیے ہوئے

 گلشن جو برق کا ہے سہارا لیے ہوئے

ہر پھول ہے ہنسی کا تقاضا لیے ہوئے

یہ دل ہے ایک درد کی دنیا لیے ہوئے

ذرہ ہو جیسے وسعتِ صحرا لیے ہوئے

ساقی اسے نہ بھول کہ محفل میں کل تِری

آیا تھا کوئی ساغر و مینا لیے ہوئے