لب تشنۂ تمنا کہیں جام تک نہ پہنچے
یہ سرورِ ذوقِ پیہم بھی تمام تک نہ پہنچے
بجلی گرانے والے! یہ بات یاد رکھنا
شعلہ چمن سے اٹھ کر تِرے بام تک نہ پہنچے
تیشہ زنی اکارت،۔ بے سُود سر فروشی
وہ جُوئے شِیر بھی کیا جو عوام تک نہ پہنچے
لب تشنۂ تمنا کہیں جام تک نہ پہنچے
یہ سرورِ ذوقِ پیہم بھی تمام تک نہ پہنچے
بجلی گرانے والے! یہ بات یاد رکھنا
شعلہ چمن سے اٹھ کر تِرے بام تک نہ پہنچے
تیشہ زنی اکارت،۔ بے سُود سر فروشی
وہ جُوئے شِیر بھی کیا جو عوام تک نہ پہنچے
سودائے شہادت نہ ہو جس سر میں وہ سر کیا
جس میں نہ حرارت ہو نہ حرکت وہ شرر کیا
نکہت ہو نہ رنگت تو چمن میں گُلِ تر کیا
جب علم و ہُنر ہو نہ بشر میں تو بشر کیا
جُھک جائے عدُو کا بھی نہ سر جس پہ وہ در کیا
ماحول مسرّت کا نہ ہو جس میں وہ گھر کیا
نہ کعبہ راہ میں اس کی نہ یہ بت خانہ آتا ہے
جب آتا ہے کسی پر دل تو بے تابانہ آتا ہے
نہ جامِ مئے نہ تنہا ساقئ مے خانہ آتا ہے
مِری نظروں میں جب آتا ہے کُل میخانہ آتا ہے
پگھل جاتا ہے سینے میں دل شمع فروزاں بھی
قدم بوسی کو جس دم سر بکف پروانہ آتا ہے
ارے یہ عدل یہ انصاف الاماں ان کا
کہ ہر زمین مِری اور ہر آسماں ان کا
دلوں میں جن کے غم اہل کارواں نہ رہا
پہنچ سکے گا نہ منزل پہ کارواں ان کا
ہزار کعبۂ ایماں وہیں وہیں پہ بنے
قدم پڑا تھا چمن میں جہاں جہاں ان کا
گلشن جو برق کا ہے سہارا لیے ہوئے
ہر پھول ہے ہنسی کا تقاضا لیے ہوئے
یہ دل ہے ایک درد کی دنیا لیے ہوئے
ذرہ ہو جیسے وسعتِ صحرا لیے ہوئے
ساقی اسے نہ بھول کہ محفل میں کل تِری
آیا تھا کوئی ساغر و مینا لیے ہوئے